مکران ہائی وے: بحیرۂ عرب کے کنارے جنوبی ایشیا کی سب سے دلکش شاہراہ
مکران کوسٹل ہائی وے وہ راستہ ہے جس پر کسی زمانے میں سکندر اعظم کی فوج چلی تھی اور جو جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے دلکش راستہ سمجھا جاتا ہے۔
وسطیٰ کراچی سے 30 کلومیٹر مغرب میں صوبہ بلوچستان کی سرحد پر پاکستان کی انسداد دہشت گردی فورس کے ارکان میرا انتظار کر رہے تھے۔ اے کے 47 سے لیس یہ فوجی میرا پاسپورٹ اور این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) چیک کرنے کے لیے گاڑی کے پاس پہنچے۔
یہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ وہ اجازت نامہ ہے جو غیر ملکیوں کو ملک کے حساس علاقوں میں سفر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ جب وہ مطمئن ہو گئے کہ سب کچھ ٹھیک ہے تو میں اپنے گائیڈ اور انسداد دہشت گردی فورس کے ارکان کے قافلے کے ساتھ مکران ساحل کی طرف روانہ ہوا، جو سڑک کے ذریعے ایرانی سرحد کی جانب میرے سفر کا نقطہ آغاز تھا۔
میرے گائیڈ، امیر اکرم نے بتایا کہ ‘کئی دہائیوں سے مکران، بلکہ پورے بلوچستان میں نہ صرف غیر ملکی باشندوں بلکہ صوبے سے باہر کے پاکستانیوں کو بھی جانے کی اجازت نہیں تھی۔‘
امیر اکرم کا کہنا تھا کہ ’پہلے میں علیحدگی پسند تحریک اور علیحدگی پسندوں کی وجہ سے یہاں آنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔. لیکن آج کل بلوچستان پر فوج کا کنٹرول ہے۔ ہم محفوظ ہیں۔‘
امیر اکرم کا کہنا تھا کہ حفاظتی تفصیلات کے ساتھ سفر کرنا صرف ایس او پی یعنی معیاری آپریشنل طریقہ کار ہے۔ مکران کے ساحل کو دیکھنے کا یہ واحد راستہ ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ کو پورے پاکستان کے سب سے خوبصورت، ثقافتی لحاظ سے دولت مند اور پر جوش اور دوستانہ خطوں میں سے ایک کی جھلکیاں دکھاؤں۔
ہم یہ کام نیشنل ہائی وے 10 پر چلتے ہوئے کریں گے جسے عرف عام میں مکران کوسٹل ہائی وے کہا جاتا ہے۔ یہ بلوچستان کے جنوب میں 584 کلومیٹر کا راستہ ہے جو ایران کی سرحد پر ختم ہوتا ہے۔ یہ جنوبی ایشیا کی سب سے زیادہ ڈرامائی راستے کے طور پر مشہور ہے۔
مکران کوسٹل ہائی وے کا زیادہ تر حصہ بحیرۂ عرب کے کنارے کنارے چلتا ہے، اس کے چمکیلے نیلگوں پانی میں مچھلیاں پکڑنے والی کشتیاں سارڈین، کیکڑے اور لابسٹر کی تلاش میں نکلتی ہیں۔
اکرم نے مجھے بتایا ‘ماہی گیری صدیوں سے مکران کی معیشت کی بنیاد رہی ہے۔ ‘مکران’ کا نام بذات خود ‘مچھلی کھانے والے’ کے فارسی لفظ سے بنا ہے۔ یہ پیشہ آج بھی اتنا ہی اہم ہے لیکن مقامی لوگ دیگر صنعتوں میں بھی کام کرتے ہیں، جیسے کہ جہاز توڑنا اور یہاں تک کہ سمگلنگ بھی۔‘
کراچی سے تقریباً دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہم اس شاہرہ کے ساتھ پہلی اہم منزل اور پاکستان کے سب سے بڑے اور ناہموار ہنگول نیشنل پارک پہنچے، جہاں تیز سمندری ہوائیں، شدید گرمی، سمندری طوفان سے ہونے والی بارشوں کے باوجود اس کے غیر حقیقی قمری مناظر مکران کی انتہائی خوبصورت تصویر بناتے
پارک کے دائرے کے بالکل اندر، ایک کھردرا راستہ ہمیں ایک نایاب اور عجیب و غریب ارضیاتی دامن تک لے گیا – آتش فشاں کا ایک جوڑا جو ہر سال لاوے کے بجائے کیچڑ اگلتا ہے۔
زائرین کا ایک قافلہ روحانیت کی تلاش میں ان آتش فشاں پہاڑوں کی چوٹی پر چڑھتا ہے جسے ہندو عقیدے میں سب سے مقدس سمجھا جاتا ہے۔ اکرم نے مجھے بتایا ‘ماتا ہنگلاج یاترا کے لیے پورے بلوچستان اور سندھ صوبوں سے دسیوں ہزار لوگ آتے ہیں، وہ موم بتیاں جلاتے ہیں اور آتش فشاں میں ناریل پھینکتے ہیں، بلند آواز میں اپنے گناہوں کا اعلان کرتے ہیں اور دریائے ہنگول میں پوِتر یا پاکیزہ غسل کرنے سے پہلے معافی مانگتے ہیں۔ پھر ان کے مطابق وہ قریب ہی ہنگلاج ماتا کی عبادت گاہ کا دورہ کرنے کے لیے موزوں حالت میں ہوتے ہیں۔ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ یہ ایک ایسا سفر ہے جو زندگی میں اچھے کام کرنے کے ساتھ ساتھ روح کو بلند مقام پر لے جاتا ہے۔‘
