اہم خبریںبین الاقوامی

امریکہ میں ایک دہائی بعد پولیو polio کا پہلا کیس رپورٹ

پولیو کیس رپورٹ ہونے کے بعد صحت کے حکام میں تشویش، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص سے وائرس منتقل ہونے کا خدشہ نہیں ہے

خبر رساں ادارے کے مطابق حکام نے جمعرات کو بتایا کہ امریکی ریاست نیویاک کے نواحی علاقے راک لینڈ کاؤنٹی  میں رہنے والے ایک شخص میں پولیو وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، متاثرہ شخص اس نے حال میں ملک سے باہر سفر نہیں کیا ہے۔

صحت کے حکام کے مطابق مریض وائرس کی ویکسین سے بننے والے اسٹرین سے متاثر ہوا ہے جو بظاہر کسی ایسے شخص سے منتقل ہوا جس نے پولیو کی ‘لائیو ویکسین’ لگوائی تھی۔ یہ ویکسین دیگر ممالک میں دستیاب ہے لیکن امریکہ میں نہیں ہے۔

طبی معائنہ کرنے والوں کے مطابق متاثرہ شخص سے وائرس دوسروں کو منتقل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ متاثرہ شخص کو انفیکشن کیسے ہوا اور آیا اس وائرس سے دیگر لوگ بھی متاثر ہوسکتے ہیں یا نہیں۔

راک لینڈ کاؤنٹی کے ہیلتھ کمشنر ڈاکٹر پیٹریشیا شنابیل ریپرٹ کہتی ہیں کہ زیادہ تر امریکیوں نے پولیو سے بچاؤ کی ویکسین لگوا رکھی ہے لیکن غیر ویکسین شدہ افراد کو یہ وائرس لاحق ہونے کا خطرہ ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق متاثر ہونے والے متاثر ہونے والے شخص کی جنس کے حوالے سے معلومات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ تاہم اس شخص کا تعلق یہودی کمینویٹی سے ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ سال 2018 اور 2019 کے درمیان جب خسرہ کی وبا پھیلی تھی ۔ اس وبا کی بنیادی وجہ سے بہت کم افراد نے ویکسین لگوائی۔ خسرے کی وبا سے 150 افراد متاثر ہوئے تھے۔

سال 2013 میں آخری مرتبہ امریکہ میں پولیو کا کیس رپورٹ ہوا ، متاثر ہونے والے شخص کی بیرون ملک ٹریول ہسٹری بھی موجود تھی ۔ بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مرکز کے مطابق 1979 کے بعد سے امریکہ میں پولیو کا کوئی کیس نہیں ہوا ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button