کینیڈا ایئرپورٹ پر پاکستانی مسافروں کے سامان سے بکرے کے پائے، گھی اور چکن برآمد

0

کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی (سی بی ایس اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان سے ٹورنٹو پیئرسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے والے مسافروں کے ایک گروپ کے سامان سے 16 کلوگرام سے زائد ایسی خوراک اور جانوروں سے بنی مصنوعات برآمد ہوئی ہیں جن کے متعلق حکام کو آگاہ نہیں کیا تھا۔

سی بی ایس اے نے جمعرات کے روز اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اپنے تلاشی لینے والی کتیا ایجی کی ایک تصویر شیئر کی جس نے مسافروں کے سامان سے مذکورہ اشیا برآمد کی ہیں۔

بارڈر ایجنسی کے مطابق ضبط کی جانے والی اشیا میں بکرے کے پائے، مرغی کا گوشت، گھی اور دودھ کا پاؤڈر شامل ہے۔

سی بی ایس اے کا کہنا ہے کہ مسافروں پر کھانے پینے کی اشیا ڈکلیئر نہ کرنے پر ایک ہزار 350 کینیڈین ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔اس پوسٹ کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد جہاں ایک طرف لوگ مسافروں کی جانب سے ہوائی جہاز کے ذریعے بکرے کے پائے اور گھی لے جانے کے عمل پر طنز کر رہے ہیں تو وہیں دوسری جانب کچھ صارفین کینیڈین حکام کو اصل مسائل کی جانب توجہ دینے کا مشورہ دیتے نظر آتے ہیں۔ایک صارف لکھتے ہیں کہ ’ایک طرف ہم ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں جیٹ طیارے اور عالمی سفر جیسی سہولتیں موجود ہیں جن کا 100 سال پہلے تصور بھی ممکن نہیں تھا، اور دوسری طرف لوگ اسی حیرت انگیز ٹیکنالوجی کو اپنے سامان میں بکرے کے پائے اور گھی لے جانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب سوشل میڈیا پر کچھ صارفین کینیڈین حکام کو ان چیزوں پر دھیان دینے کے بجائے منشیات کی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ روکنے پر کام کرنے کا مشورہ دیتے نظر آئے۔

میر نامی ایک صارف سی بی ایس اے کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’منشیات آپ کی ناک کے نیچے سے گزر جاتی ہیں، لیکن کینیڈا کی قومی سلامتی کے لیے اصل خطرہ ان کھانے پینے کی اشیا سے ہے۔‘کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی (سی بی ایس اے) ملک کے دیگر اداروں کے ساتھ قریبی تعاون سے کینیڈا میں خوراک، پودوں، جانوروں اور ان سے بنی مصنوعات ملک میں لانے سے متعلق پالیسیوں کا سرحدی مقامات پر نفاذ اور انتظام کرتی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ درآمد کردہ پھل یا گوشت کا صرف ایک ٹکڑا بھی کینڈا کے ماحولیاتی نظام کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

’خوراک، پودوں اور جانوروں سے متعلق مختلف مصنوعات کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد ہے کیونکہ ان کے ذریعے حملہ آور انواع، جانوروں کی بیرونی بیماریاں اور پودوں کے لیے نقصان دہ کیڑے متعارف ہو سکتے ہیں۔‘

’یہ عوامل کینیڈا کی فصلوں، مویشیوں اور ماحولیات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں اور ملکی معیشت کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔‘

سی بی ایس اے کی ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے مسافر کینیڈا میں داخل ہوتے وقت کھانے پینے کی کون سی اشیا اپنے ہمراہ نہیں لا سکتے۔

جن اشیا پر پابندی عائد ہے ان میں خوراک، مثلاً کچا یا پکا ہوا گوشت، پھل اور سبزیاں، اور دودھ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ گھریلو طور پر تیار کی گئی اشیا، مثلاً پودوں یا لکڑی سے بنی چیزیں، گھروں میں رکھے جانے والے پودے، زندہ جانور بشمول پالتو جانور اور ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والا چارہ، جلانے کی لکڑی، پودوں کے ٹکڑے اور بیج اور گندے ہائکنگ والے جوتے بھی شامل ہیں۔

سی بی ایس اے کا کہنا ہے کہ کچھ اشیا کو کینیڈا میں لانے کے لیے مخصوص دستاویزات یا رجسٹریشن درکار ہوتی ہے۔

ادارہ مسافروں کو خوراک، پودوں یا جانوروں سے متعلق مصنوعات کے ساتھ سرحد عبور کرنے سے پہلے کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی کے خودکار درآمدی ریفرنس سسٹم سے رہنمائی حاصل کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.