اسپین میں 2 ٹرینوں کے درمیان خوفناک تصادم، 64 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
اسپین کے صوبہ قرطبہ میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 64 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے، حادثے کے بعد میڈرڈ سے جنوبی علاقے اندلس جانے والی تیز رفتار ریلوے لائن پر ٹرینوں کی آمدورفت معطل کر دی گئی جبکہ وزیراعظم نے اپنی تمام سرکاری مصروفیات منسوخ کر دیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپین کے ریلوے آپریٹر ایڈیف نے بتایا کہ میڈرڈ سے اندلس جانے والی ریلوے لائن پر صبح تقریباً 9 بجے دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں۔ جس کے نتیجے میں اریو ٹرین کی دو بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔
حکومتی ترجمان کے مطابق حادثے کی وجوہات اور زخمیوں کی تعداد کا تعین کیا جا رہا ہے۔
حکومتی ترجمان نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والی دونوں ٹرینوں میں 544 مسافر سوار تھے، ایک ٹرین میں 147 اور دوسری میں 397 مسافر سوار تھے۔
اسپین میں یہ حادثہ جنوری میں ہونے والے ایک بڑے ٹرین حادثے کے تقریباً نو ماہ بعد پیش آیا ہے۔ جنوری میں میڈرڈ سے اندلس جانے والی تیز رفتار ریلوے لائن پر صوبہ قرطبہ کے قصبے آدموز کے قریب ایک ٹرین پٹڑی سے اتر کر مخالف سمت سے آنے والی ٹرین سے ٹکرا گئی تھی، جس کے نتیجے میں 46 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حادثے کے بعد اسپین میں ریلوے نظام کی دیکھ بھال اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بحث چھڑ گئی تھی۔
دوسری جانب ریلوے آپریٹر ایڈیف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ دونوں ٹرینوں کے تصادم کے بعد میڈرڈ اور اندلس کے درمیان ریلوے لائن پر ٹریفک معطل کر دی گئی ہے۔ حادثے کا شکار ٹرینیں رینفے اور اریو کمپنیوں کی تھیں۔
علاقائی ٹیلی وژن کی جاری کردہ فوٹیج میں پٹڑی سے اتری ہوئی ٹرین کی ایک بوگی بلندی پر واقع ریلوے ٹریک پر دکھائی دی، جبکہ ٹوٹی ہوئی دھاتی چادریں، پینل اور ملبہ نیچے ڈھلوان پر بکھرا ہوا تھا۔
قریبی قصبے اُردا کے میئر مینوئل گالان نے ریڈیو کیڈینا ایس ای آر کو بتایا کہ امدادی اداروں نے مقامی انتظامیہ سے ہنگامی انتظامات کرنے کی درخواست کی ہے۔
حادثے کے بعد اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی سرکاری مصروفیات کا شیڈول منسوخ کر دیا گیا جبکہ اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی نے بھی اپنی تمام انتخابی سرگرمیاں ملتوی کر دیں۔
ہسپانوی ریڈ کراس کے قومی ایمرجنسی ڈائریکٹر اِنیگو ویلا نے رائٹرز کو بتایا کہ حادثہ پہاڑی علاقے میں پیش آیا جہاں زیتون کے باغات واقع ہیں۔ جائے حادثہ تک رسائی کے لیے صرف ایک تنگ سڑک ہونے کے باعث امدادی ٹیموں اور ایمبولینسوں کو وہاں پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
