مستونگ میں تندور مافیا بے قابو، غریب عوام کو روٹی کے نام پر لوٹنے کا سلسلہ جاری
مستونگ میں تندور مافیا بے قابو، غریب عوام کو روٹی کے نام پر لوٹنے کا سلسلہ جاری، روٹی کی سائز انتہائی محدود، انتظامیہ کی پراسرار خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کردیئے۔شہر میں چیک اینڈ بیلنس کا موثر نظام نہ ہونے کے باعث تندور مالکان کی من مانیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، روٹی کا حجم مسلسل کم ہوتے ہوتے نان روغنی کے 20 روپے والے بسکٹ کے سائز تک جاپہنچا ہے جبکہ قیمتیں اپنی جگہ برقرار ہیں۔ مہنگائی کے ہاتھوں پہلے ہی پریشان غریب عوام سے پوری قیمت وصول کرکے وزن اور حجم میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے، مگر متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے تندوروں کی موثر نگرانی اور کارروائی کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔شہری حلقوں کے مطابق تندور مالکان مبینہ طور پر اپنی مرضی کے نرخ، وزن اور سائز مقرر کرکے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ روٹی کی قیمت اور وزن کا کوئی واضح چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث شہری بے بسی سے یہ صورتحال برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر بازار میں نرخ، وزن اور معیار کی نگرانی کے لیے انتظامیہ اور متعلقہ ادارے موجود ہیں تو پھر تندور مالکان کو کھلی چھوٹ کس کی اجازت سے حاصل ہے۔دوسری جانب بعض تندوروں پر مبینہ طور پر غیر معیاری اور مضر صحت دودھ، دہی اور دیگر اشیائے خورونوش کی فروخت بھی جاری ہے، جس سے شہریوں کی صحت کو بھی خطرات لاحق ہیں، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے نہ باقاعدہ سیمپلنگ نظر آتی ہے اور نہ ہی تندوروں کی موثر چیکنگ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر کارروائی نہ کی گئی تو تندور مالکان کی من مانیاں مزید بڑھیں گی اور اس کا براہ راست بوجھ غریب عوام پر پڑتا رہے گا۔عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر مستونگ، اسسٹنٹ کمشنر اور متعلقہ فوڈ اتھارٹی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر کے تندوروں کی فوری، اچانک اور بلاامتیاز چیکنگ کی جائے، روٹی کا مقررہ وزن، قیمت اور معیار یقینی بنایا جائے، غیر معیاری دودھ، دہی اور دیگر اشیائے خورونوش کی فروخت کے خلاف کارروائی کی جائے اور عوام کو مبینہ طور پر لوٹنے والے تندور مالکان کے خلاف قانون کے مطابق سخت ایکشن لیا جائے۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ انتظامیہ کی خاموشی کو تندور مافیا کے لیے کھلی چھوٹ تصور کیا جا رہا ہے، جس کا فوری نوٹس نہ لیا گیا تو عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
