جماعت اسلامی نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا اعلان کردیا

0

وفد نے اسلام آباد میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن سے ملاقات کی، جس میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس اور سینیئر سیاست دان مصطفیٰ نواز کھوکھر اور نامزد سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے، جسے قبول کرلیا گیا ہے، ملک میں امن و امان، معاشی صورت حال، عوام کے حق حکمرانی اور جمہوری عمل کی بحالی کے لیے ایک متفقہ قومی ایجنڈے کی اشد ضرورت ہے۔

 

اے پی سی کے بارے میں علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد یہ ہے سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر پاکستان کو درپیش مسائل پر بات چیت کریں اور ان کے حل کی راہ بھی نکالیں، پاکستان کسی ایک سیاسی جماعت، ادارے، فوج یا بیوروکریسی کا نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کا ملک ہے، جس کے قیام کے لیے لوگوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں، اب خون خرابہ بند ہونا چاہیے اور سیاسی و سماجی تقسیم ختم کرنے کے لیے تمام فریقوں کو مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔

 

امیر جماعت اسلامی نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی آئین کو معطل یا پامال کرنے اور موجودہ نظام کو مخصوص مقاصد کے لیے متاثر کرنے والے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومت کو بہت پہلے بامعنی مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے تھا، تاہم تاخیر کے باعث معاملات خراب ہوئے، مذاکرات کے لیے قائم کمیٹی کا فیصلہ خوش آئند ہے، لیکن بات چیت محض رسمی ملاقات یا فوٹو سیشن تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس کے نتیجے میں پیش رفت ہونی چاہیے۔

 

حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اپنی جماعت کے رہنما ہیں اور ان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتوں پر پابندی درست نہیں، مذاکرات کے بعد انہیں ملاقاتوں تک رسائی ملنی چاہیے۔

 

انہوں نے عمران خان کی صحت سے متعلق تحفظات دور کرنے اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود عمران خان سابق وزیراعظم اور سیاسی عمل کی اہم شخصیت ہیں، اس لیے ان کی صحت سے متعلق خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

 

حافظ نعیم الرحمٰن نے گرفتار خواتین، بشمول عمران خان کی بہنوں اور ڈاکٹر یاسمین راشد، کے معاملات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ زیر حراست سیاسی رہنماؤں کو صحت کے مسائل کے پیش نظر سہولتیں ملنی چاہئیں۔

 

انہوں نے اعجاز چوہدری، محمود الرشید اور عامر چیمہ سمیت دیگر گرفتار رہنماؤں کی صحت سے متعلق مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ضمانتوں میں رکاوٹیں نہیں ہونی چاہئیں اور عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔

 

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکومت اگر ان مطالبات پر پیش رفت کرے تو سیاسی کشیدگی کم اور صورت حال بہتر ہوسکتی ہے، سیاسی جماعتوں کو صرف اپنے مطالبات کے بجائے جمہوری، آئینی اور سیاسی عمل کی بحالی کے لیے بھی مشترکہ ایجنڈا بنانا چاہیے

Leave A Reply

Your email address will not be published.