
اسلام آباد (این این آئی)و زیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امن معاہدہ بہت بڑی پیشرفت ہے ، اعتماد سازی کے لیے دونوں فریقوں کو آگے بڑھانا چاہئے، صدر غنی ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھیں اور طالبان بھی فراخدلی کا مظاہرہ کریں،بیس سال کی جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہو اور جنگ کوئی راستہ نہیں ،اب فریقین کو ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کرنی ہو گی۔ منگل کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان امن عمل کے حوالے سے اپنے بیان میں کہاکہ دوحہ میں جو امن معاہدہ ہوا وہ بہت بڑی پیشرفت ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ جو موقع میسر آ یا ہے اسے گنوا نا نہیں چاہیے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ افغان قیادت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سازگار ماحول پیدا کرے جس سے گفتگو آ گے بڑھے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ دوحہ میں جو ہوا وہ پہلا قدم تھا اب اگلا قدم انٹرا افغان مذاکرات ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اس کی اعتماد سازی کے لیے دونوں فریقوں کو آگے بڑھانا چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ صدر غنی ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھیں اور طالبان بھی فراخدلی کا مظاہرہ کریں۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ یہ عمل آ سان نہیں ہے تاہم کامیاب نہیں ہوتا تو نقصان افغانستان کا ہو گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بیس سال کی جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہو اور جنگ کوئی راستہ نہیں ہے،اب فریقین کو ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کرنی ہو گی۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ اگر یہ کامیاب نہیں ہوتا تو نقصان افغانستان کا ہوگا افغان عوام کا ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ یہ افغان قیادت کی آ زمائش ہے جتنے وہاں دھڑے ہیں سب کی آ زمائش ہے۔ انہوںنے کہاکہ انکی آ زمائش ہے کہ وہ آ گے بڑھتے ہیں یا اسی تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہیں جو پہلے کرتے رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان نیک نیتی سے چاہتا ہے کہ معاملات سدھریں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام چاہتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان نے جو کردار ادا کرنا تھا وہ کیا اور دنیا نے اسکو سراہا۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ اس معاہدے پر اگلا قدم اٹھانا افغانوں کا کام ہے،اس میں آ گے بڑھنے کیلئے افغان جو اقدامات اٹھائیں گے پاکستان انکی حمایت کرے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان ایک سازگار ماحول پیدا کر سکتا ہے ان کے فیصلے نہیں کر سکتا۔ انہوںنے کہاکہ امریکہ طالبان معاہدے میں یہ درج ہے کہ قیدیوں کا تبادلہ ہو گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ صدر اشرف غنی کو چاہیے کہ وہ معاہدے کی وضاحت امریکہ سے مانگیں۔ انہوںنے کہاکہ میری معلومات کے مطابق زلمے خلیل زاد مذاکرات کے حوالے سے افغان قیادت کو آ گاہ کرتے رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ماضی میں بھی قیدیوں کا تبادلہ ہو ا ہے،جب جنگ سے امن کی طرف بڑھتے ہیں تو خیر سگالی کے لیے یہ کرنا پڑتا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ اور قیدیوں کی رہائی یکطرفہ نہیں دو طرفہ ہو گی،اگر ہٹ دھرمی سے کام لینا ہے تو بات آ گے نہیں بڑھا پائے گی۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ یہ ایک منطقی قدم ہے جو اٹھنا چاہیے،معاہدوں کے ساتھ رویوں کو بھی ٹھیک کرنے ہوں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ رکاوٹیں ڈالنے والے تو پہلے بھی تھے اب سیاسی قیادتِ کا کمال یہ ہے ک وہ ان کو نا کام کریں۔



