شمسی طوفان زمین سے ٹکرانے کا خطرہ، کیا ہو سکتا ہے؟

0

سورج سے خارج ہونے والے مادے کے دو بڑے بادل زمین کی جانب بڑھ رہے ہیں، جن کے 11 اکتوبر کو زمین کے قریب پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں زمین کے مقناطیسی میدان میں خلل پیدا ہونے اور سیٹلائٹ نیویگیشن، ریڈیو مواصلات اور بجلی کے نظام متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ امریکی ادارے نیشنل اوشیئنک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) نے ممکنہ شمسی سرگرمی کے پیش نظر درمیانے درجے کے جی ٹو جیو میگنیٹک طوفان کی وارننگ جاری کی ہے۔ تاہم طوفان کی شدت اور اس کے حقیقی اثرات کا انحصار زمین کے مقناطیسی میدان کے ساتھ شمسی مادے کے تعامل پر ہوگا۔

این او اے اے کے اسپیس ویدر پریڈکشن سینٹر کے مطابق اس ممکنہ طوفان کا تعلق سورج سے 7 اور 8 اکتوبر کو خارج ہونے والے مادے کے دو بادلوں سے ہے۔ پیش گوئی کے مطابق دوسرا بادل پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے حرکت کر رہا ہے، جس کے باعث دونوں بادل زمین تک پہنچنے سے قبل آپس میں مل سکتے ہیں۔ جی ٹو درجے کے جیو میگنیٹک طوفان کے دوران بلند عرض البلد والے علاقوں میں بجلی کی ترسیل کے نظام میں وولٹیج کے اتار چڑھاؤ، ریڈیو مواصلات میں خلل اور سیٹلائٹ نیویگیشن کی درستگی متاثر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ تاہم بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش یا روزمرہ زندگی میں وسیع خلل پڑنے کی فی الحال کوئی یقینی پیش گوئی نہیں کی گئی۔ شمسی طوفان کے نتیجے میں شمالی اور جنوبی قطبی علاقوں میں قدرتی روشنیوں، جنہیں ارورا یا ناردرن لائٹس کہا جاتا ہے، کے نظارے بھی معمول سے زیادہ جنوبی علاقوں تک پھیل سکتے ہیں۔ ان روشنیوں کا ظاہر ہونا شمسی مادے کی خصوصیات اور مقامی فضائی حالات پر منحصر ہو گا۔ مجموعی طور پر 11 اکتوبر کے لیے جاری کی گئی وارننگ ایک پیش گوئی ہے، حتمی صورتحال نہیں۔ سورج سے خارج ہونے والے مادے کی رفتار اور مقناطیسی خصوصیات کے مطابق زمین پر اس کے اثرات میں تبدیلی آسکتی ہے۔ اس لیے طوفان کی شدت اور ممکنہ اثرات کے بارے میں زیادہ واضح صورت حال اس کے زمین کے قریب پہنچنے پر سامنے آئے گی۔ شمسی طوفان کیا ہے؟
شمسی طوفان اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سورج پر ہونے والی سرگرمیوں کے نتیجے میں توانائی اور مادہ خلا میں خارج ہوتا ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ ’کورونا ماس ایجیکشن‘ ہے، جس میں سورج سے برقی چارج رکھنے والے ذرات اور مقناطیسی مادے کے بڑے بادل خلا میں خارج ہوتے ہیں۔ جب یہ بادل زمین کے قریب پہنچتے ہیں تو سیارے کے مقناطیسی میدان میں خلل پیدا ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں جیو میگنیٹک طوفان جنم لیتا ہے۔ این او اے اے ایسے طوفانوں کی شدت کو پانچ درجوں میں تقسیم کرتا ہے۔ جی ون معمولی جبکہ جی فائیو انتہائی شدید طوفان کی نشاندہی کرتا ہے۔ درجہ جتنا زیادہ ہو، ممکنہ خلل کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔ شمسی تابکاری کے طوفانوں اور ریڈیو بلیک آؤٹ کے لیے الگ پیمانے استعمال کیے جاتے ہیں، جو خلائی موسم کے مختلف اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.