بلوچستان میں صحت کے شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن عالمی توجہ کا مرکز بن گئی
کوئٹہ:بلوچستان میں صحت کے شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن عالمی توجہ کا مرکز بن گئی صوبے کی ڈیجیٹل ہیلتھ پالیسی اور اصلاحات کو 26 ممالک کی شرکت والی بین الاقوامی کانفرنس میں نمایاں کیا گیا ہے سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں منعقدہ ڈی ایچ آئی ایس ٹو ایشیا پیسیفک کانفرنس میں بلوچستان کے ڈیجیٹل ہیلتھ ماڈل اور صحت کے نظام میں ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا گیا کانفرنس میں مختلف ممالک کے نمائندگان، ماہرین صحت اور ترقیاتی شراکت دار شریک ہوئے صوبائی وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ نے کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور بلوچستان میں صحت کے شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن، صحت کے اعدادوشمار کے مو¿ثر استعمال، رپورٹنگ کے نظام میں بہتری اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کے حوالے سے صوبائی اقدامات کو اجاگر کیا اس موقع پر اوسلو یونیورسٹی، ناروے کی جانب سے بلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ اصلاحات اور صحت کے نظام کو ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات کو سراہا گیا۔ بلوچستان کے ڈیجیٹل ہیلتھ تجربے کو صحت کے نظام میں ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کی ایک مثال کے طور پر بھی پیش کیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی فورم پر بلوچستان کی ڈیجیٹل ہیلتھ اصلاحات کو ملنے والی پذیرائی پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی ڈیجیٹل ہیلتھ اصلاحات کو عالمی سطح پر پذیرائی ملنا باعث اطمینان ہے۔ اوسلو یونیورسٹی سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کی جانب سے بلوچستان کی اصلاحات کی پذیرائی حوصلہ افزا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے ڈیجیٹل ہیلتھ تجربے کو بین الاقوامی فورم پر پیش کیا جانا صوبے کی اصلاحاتی کاوشوں کا اعتراف ہے صحت کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن جدید اور مو¿ثر گورننس کی جانب اہم پیش رفت ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پر مبنی نظام کے ذریعے صحت کے شعبے میں شفافیت اور جوابدہی کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ ڈیجیٹل ہیلتھ اصلاحات کا مقصد ٹیکنالوجی کو عوامی صحت کی خدمات میں عملی بہتری کا ذریعہ بنانا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ڈیٹا اور بین الاقوامی تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے اصلاحات کا سفر جاری رکھے گی۔
