انسداد دہشت گردی عدالت کا عمران خان کو پیش کرنے کا حکم
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس کی سماعت کی، عدالت نے حکم دیا کہ عمران خان کو فزیکلی یا بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے اگلی سماعت پر بانی پی ٹی آئی کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے فرخ حبیب، حماد اظہر، مراد سعید اور شبلی فراز اشتہاری قرار دیدیا، عدالت نے اشتہاری قرار دیئے گئے ملزمان کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کرلی۔
سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم اور حسان نیازی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیئے گئے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف جوڈیشل کمپلیکس پر حملے کا مقدمہ تھانہ رمنا میں درج ہے۔
یاد رہے کہ جوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ پر عمران خان سمیت تحریک انصاف کے 21 رہنماؤں اور 250 کارکنوں کے خلاف تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مقدمے میں دہشت گردی ، کار سرکار میں مداخلت اور سرکاری اہل کاروں سے مزاحمت کی دفعات شامل کی گئیں۔ پولیس کی مدعیت میں درج مقدمے کے متن میں کہا گیا تھا کہ عمران خان ہجوم نما مشتعل لشکر کو لے کر جوڈیشل کمپلکس پہنچے اور اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما اشتعال انگیز نعرے بازی کے ساتھ ساتھ آتشیں اسلحہ بھی لہرا رہے تھے۔
