پولیس نے ’کاکروچ تحریک‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے سمیت متعدد کارکن گرفتار کر لیے

0

بھارتی پولیس نے جمعہ کو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے اور ان کے متعدد حامیوں کو نئی دہلی میں احتجاج سے قبل حراست میں لے لیا۔

مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں، طلبہ کارکن نیہا بورا کو بھی کناٹ پلیس پہنچنے کی کوشش کے دوران حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

رائٹرز کے مطابق پولیس نے احتجاج سے پہلے ابھیجیت دیپکے کو قانون کی پابندی کرنے کا نوٹس دیا تھا، حکام نے سکیورٹی سخت کرتے ہوئے سینٹرل پارک بھی بند کر دیا، جہاں مظاہرین نے بھارتی قومی پرچم لہرانے کے لیے جمع ہونے کا اعلان کیا تھا، پولیس کے مطابق دیپکے کو احتجاج کے دوران ممکنہ خلاف ورزیوں کے نتائج سے آگاہ کیا گیا تھا۔

احتجاج کے دوران دہلی کے تجارتی مرکز کناٹ پلیس میں بھاری نفری تعینات رہی۔ ممبئی اور بنگلورو میں بھی چھوٹے مظاہرے ہوئے جبکہ پٹنہ میں طلبہ تنظیموں نے احتجاج کیا اور بعض مظاہرین پولیس کی رکاوٹوں کے سامنے جمع ہوئے۔

بھارت میں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا معاملہ اس وقت سیاسی تنازع بن گیا جب انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر کے دو نائبین نے اندرونی طور پر ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں، رجسٹریشن کے طریقۂ کار اور ڈیجیٹل نظام سے متعلق خدشات کا اظہار کیا تھا۔

رائٹرز کے مطابق بھارتی الیکشن کمیشن نے بتایا کہ گزشتہ سال سے ووٹر فہرستوں سے خارج کیے گئے 13 کروڑ سے زائد ناموں میں تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ ایسے افراد شامل تھے جو انتقال کر چکے تھے، 6 کروڑ 30 لاکھ افراد دوسری جگہ منتقل ہو گئے تھے جبکہ 3 کروڑ افراد کا سراغ نہیں مل سکا تھا۔

اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کے ووٹ متاثر ہو سکتے ہیں، ان جماعتوں کے مطابق ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں سے وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچنے کا خدشہ ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن اور بی جے پی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ جن اہل ووٹرز کے نام غلطی سے خارج ہوئے ہیں، وہ دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں۔

بی جے پی کا مؤقف، نوجوانوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعے کو میڈیا سے گفتگو میں احتجاج کو کانگریس کی جانب سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی توانائی کو ملک کی تعمیر کے لیے استعمال کرنے کے بجائے انہیں انتشار کی سیاست میں مہرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، کاکروچ جنتا پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ابھیجیت دیپکے کی حراست کی تصدیق کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت نوجوانوں کے قومی پرچم لہرانے سے خوف زدہ ہے۔

رائٹرز کے مطابق کاکروچ تحریک رواں سال کے دوران بھارت میں نوجوانوں کی نمایاں احتجاجی تحریکوں میں شامل ہوئی ہے، اس سے قبل امتحانی پرچوں کے افشا ہونے کے معاملے پر کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے دھرنے کے بعد بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

حالیہ احتجاجات میں تقریباً روزانہ مظاہروں کے دوران چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں کے حوالے سے اپوزیشن کے الزامات اور حکومتی مؤقف کے درمیان اختلاف برقرار ہے۔

اس معاملے میں ایک جانب اپوزیشن اور طلبہ تنظیمیں انتخابی عمل پر سوال اٹھا رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب الیکشن کمیشن اور حکمراں جماعت انتخابی کارروائی کا دفاع کر رہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.