خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی آئین کے مطابق لگائی گئی: محسن نقوی
محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت نے آئین سے باہر رہ کر کوئی اقدام نہیں کیا، جبکہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ بھی آئین کے دائرے میں رہ کر کیا گیا ہے۔
سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئےمحسن نقوی کا کہنا تھا کہ کہ اگر آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ماہرین اس کی نشاندہی کریں اور بتائیں کہ کون سی آئینی شق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
انہوں نے علامہ راجہ ناصر عباس کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جذباتی تقریر کی ہے، پارلیمنٹ میں پہلے دن ہی سے دہشت گردی کے معاملے پر بات چیت ہو رہی ہے اور اس حوالے سے مختلف سیاسی رہنماؤں سے تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے یقین دہانی کرائی تھی کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا ساتھ دیا جائے گا۔
محسن نقوی نے بتایا کہ اسد قیصر سے درخواست کی گئی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف تعاون کی بات کر رہے ہیں، تاہم خیبر پختونخوا حکومت کا مؤقف اس سے مختلف تھا۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ حالات اس نہج پر پہنچیں، اُن کے بیان کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ حکومتی اقدامات آئین کے مطابق کیے گئے ہیں اور دہشت گردی کے معاملے پر سیاسی تعاون ضروری ہے۔
