پاکستان او آئی سی ممالک سے میڈیکل ٹورازم کے ذریعے زبردست فوائدسمیٹ سکتا ہے

کراچی (15جولائی 2025): فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیولپمنٹ کے اشتراک سے کراچی میں ایک اعلیٰ سطحی ”میڈیکل ٹورازم کانفرنس” کا انعقاد کیا گیا؛ جس میں ممتاز طبی ماہرین، سیاحت کی صنعت سے وابستہ سی ای اوز، سرکاری حکام اور پارلیمنٹیرینز نے شرکت کی۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز کا معیار عالمی سطح کا ہے اور ہم میڈیکل ٹورازم کے ذریعے ترکیہ، بھارت، ایران اور چین کی طرح ملک کے لیے کثیر زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر سیاحت کی صنعت عالمی جی ڈی پی میں 10 فیصد حصہ رکھتی ہے؛ 330 ملین روزگار فراہم کرتی ہے اور دنیا بھر کی خدمات کی برآمدات میں 28.3 فیصد حصہ رکھتی ہے۔ 1970 کی دہائی سے سیاحت کو معاشی ترقی اور غربت کے خاتمے کا ذریعہ بنایا گیا ہے اور اسی وجہ سے کئی ترقی پذیر ممالک نے اسے اپنی قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا ہے۔ایف پی سی سی آئی کے سنیئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے مزید وضاحت کی کہ میڈیکل ٹورازم ایک تیزی سے ترقی کرتی ہوئی عالمی صنعت بن چکی ہے؛ جس کی مالیت 2024 میں 144.5 ارب ڈالر رہی اور اندازہ ہے کہ یہ 2033 تک 700 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ تھائی لینڈ، ایران، بھارت، ترکیہ، سنگاپور، جنوبی کوریا اور ملائیشیا جیسے ممالک نے خود کو اس شعبے میں نمایاں حیثیت دلوا لی ہے؛جس کی بنیادی وجہ سستی طبی سہولیات، جدید اسپتال اور حکومتی معاونت ہے۔ ایم ڈی گرین ٹورازم پرائیویٹ لمیٹڈ، لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سردار حسن اظہر حیات،نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں مہنگے علاج، طویل انتظار اور اسپیشیلائز ڈٹر یٹمنٹ کی مانگ کی وجہ سے دنیا بھر میں میڈیکل ٹورازم فروغ پا رہا ہے۔ ان ممالک نے جدید طبی ٹیکنالوجی، اعلیٰ معیار کی صحت کی سہولیات اور علاج کے ساتھ سیاحت کے امتزاج کے ذریعے مریضوں کو اپنی طرف راغب کیا ہے۔ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر زبیر طفیل نے کہا کہ پاکستان میں میڈیکل ٹورازم کی بہت بڑی گنجائش موجود ہے۔ اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیولپمنٹ کے پلیٹ فارم سے ترکیہ، ایران اور دیگر ممالک میں اس موضوع پر متعدد کانفرنسز منعقد ہو چکی ہیں؛ تاہم یہ پاکستان میں نجی شعبے کی جانب سے پہلی میڈیکل ٹورازم کانفرنس ہے جسے تمام او آئی سی ممالک میں براہِ راست نشر کیا جا رہا ہے۔اس کانفرنس سے جن دیگر ممتاز شخصیات نے خطاب کیا ان میں صدر و سی ای او، البرکہ بینک پاکستان، عاطف حنیف؛ پارلیمانی سیکریٹری، سندھ، محترمہ سائمہ آغا؛ سی ای او، آغا خان یونیورسٹی اسپتال ڈاکٹر فرحت عباس; چیئرمین، شفا انٹرنیشنل ہاسپٹلز،ڈاکٹر حبیب الرحمان اور صحت کے دیگر شعبوں سے وابستہ نمایاں رہنما شامل تھے۔

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکرٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

Comments are closed.