افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار
ای سی او کونسل کے غیر رسمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، خوشحال اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے جو خطے میں مکمل طور پر ضم ہو اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن سے رہے، پاکستان نے اسی مقصد کے تحت افغانستان کے ساتھ تعمیری روابط کی پالیسی اپنائی اور دوطرفہ و ٹرانزٹ تجارت کے لیے مختلف سہولتیں بھی فراہم کیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی واحد توقع یہ ہے کہ طالبان حکومت اس کے جائز سیکیورٹی خدشات دور کرے اور ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی کرے جو پاکستان کی خودمختاری اور شہریوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ ہیں۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں امن اور ترقی اسی وقت ممکن ہے جب افغانستان سے دہشت گردی کے خطرے کا خاتمہ ہو۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ تقریباً 80 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے اور تقریباً 50 کروڑ آبادی پر مشتمل ای سی او خطہ اپنی حقیقی تجارتی صلاحیت کے مقابلے میں عالمی تجارت میں صرف تقریباً 2.2 فیصد حصہ رکھتا ہے، اس لیے علاقائی تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کی وسیع گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ وسطی اور جنوبی ایشیا کو ملانے والے رابطہ کاری کے منصوبوں سے خطے کی اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں، پاکستان خطے کے لیے گیٹ وے کا کردار ادا کرنے اور وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب کی بندرگاہوں سے ملانے والے اہم تجارتی راستوں کو فعال بنانے کے لیے تیار ہے۔
اسحاق ڈار نے ویزا نظام میں بہتری، اشیا اور افراد کی نقل و حرکت آسان بنانے، ڈیجیٹل انضمام اور ٹرانزٹ نظام بہتر بنانے کو بھی علاقائی تعاون کے اہم نکات قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ای سی او کے 2026 سے 2035 کے سٹریٹجک اہداف آنے والی دہائی میں علاقائی تعاون کے لیے ایک عملی اور پرعزم فریم ورک فراہم کریں گے، نومبر میں اسلام آباد میں ای سی او کونسل وزرائے خارجہ کے 30ویں اجلاس کی تیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام رکن ممالک اور ای سی او سیکریٹریٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔
