حوثیوں پر حملے کی تیاری مکمل، ٹرمپ نے آخری مرحلے میں فیصلہ بدل دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کے حوثیوں کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی آخری مرحلے میں روک دی، حالانکہ حملے کے لیے اہداف منتخب اور جنگی طیاروں پر بم لادنے کی تیاری مکمل ہوچکی تھی۔
امریکی حکام کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حوثیوں کے بڑھتے حملوں کے معاملے پر جمعرات کو صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا تھا جس کے بعد امریکی صدر نے پینٹاگون کو ممکنہ کارروائی کی تیاری کا حکم دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے حوثیوں پر حملے کے لیے اہداف کی فہرست تیار کرلی تھی جبکہ جنگی طیاروں کو بھی مسلح کیا جارہا تھا، تاہم صدر ٹرمپ نے اچانک اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے فضائی حملوں کا منصوبہ روک دیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا پہلے ہی ایران کے ساتھ جنگ میں وسیع فوجی وسائل استعمال کررہا ہے، ایسے میں حوثیوں کے خلاف نیا محاذ کھولنے سے امریکی افواج پر مزید دباؤ پڑسکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے عمان کی ثالثی میں ہونے والے سابقہ سمجھوتے کے تحت امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کا عندیہ بھی امریکی فیصلے میں اہم عنصر ہے۔
حکام کے مطابق امریکی حملے کی صورت میں حوثیوں کی جانب سے امریکی بحری افواج کو نشانہ بنانے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں پہلے ہی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہیں۔
امریکا نے فی الحال سعودی عرب کی حمایت جاری رکھنے کے ساتھ حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی سے گریز کیا ہے۔
واضح رہے کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں پر میزائل اور ڈرون حملوں اور بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکا سے تعاون طلب کیا تھا۔
