ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو 7 روزہ تجویز پر امریکا کا جواب موصول
برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق مذاکرات سے باخبر ایک ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ عباس عراقچی نے گزشتہ رات دوحہ میں قطری ثالثوں سے ملاقات کی جہاں انہیں ایران کی جانب سے پیش کئے گئے سات روزہ منصوبے پر امریکی مؤقف سے آگاہ کیا گیا، عراقچی آج تہران پہنچ کر اس جواب پر بات کریں گے۔
ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلاف منصوبے پر عملدرآمد کی ترتیب سے متعلق ہے، سات روزہ منصوبے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بحال کرنا اور جون میں طے پانے والی امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کو مزید بہتر شکل میں دوبارہ نافذ کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ایران نے اس سے قبل قطر کے ذریعے امریکا کو ایک منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت تہران نے شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو 7 دن کے اندر معمول کی بحری آمدورفت کیلئے کھولنے اور اس کے بعد وسیع تر مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ کا مؤقف رہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے حتمی جواب کا انتظار کر رہا ہے اور مذاکرات میں پیشرفت ایران کی شرائط پوری ہونے سے مشروط ہوگی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ایرانی تجویز کو مسترد قرار دیا تھا تاہم قطر کے ذریعے دونوں فریقوں کے درمیان بالواسطہ رابطے جاری ہیں۔
تازہ رابطوں میں قطر اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، قطری حکام کے مطابق دوحہ امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، اس پورے عمل میں آبنائے ہرمز، اقتصادی پابندیوں اور مستقبل کے جوہری مذاکرات سمیت کئی معاملات زیر بحث ہیں۔
اب عباس عراقچی کی تہران میں ہونے والی مشاورت کو آئندہ ایرانی مؤقف طے کرنے کیلئے اہم سمجھا جا رہا ہے، تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق ابھی تک کسی حتمی معاہدے یا جنگ کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
