دو گول خسارے سے شاندار واپسی، پاکستان نے فیفا آسیان کپ میں پہلا پوائنٹ حاصل کرلیا
علی اکبر خان اور عبدالصمد ارشد کے گولز کی بدولت پاکستان نے دو گول کے خسارے سے شاندار واپسی کرتے ہوئے منگل کے روز فیفا آسیان کپ میں فلپائن کے خلاف میچ 2-2 سے برابر کردیا اور ٹورنامنٹ میں اپنا پہلا پوائنٹ حاصل کرلیا۔
علی اکبر نے قومی ٹیم کے لیے اپنا پہلا بین الاقوامی گول اسکور کیا، جبکہ عبدالصمد ارشد نے دوسرا گول کرکے پاکستان کو برابری دلائی۔ یہ فیفا کے کسی بھی مقابلے میں پاکستان کی پہلی شرکت ہے اور اس میچ میں قومی ٹیم نے ٹورنامنٹ میں اپنے پہلے گول بھی اسکور کیے۔
نولبرٹو سولانو کی ٹیم کو گروپ بی کے پہلے میچ میں تھائی لینڈ کے ہاتھوں 4-0 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن فلپائن کے خلاف پاکستان نے بھرپور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو گول کے خسارے کو ختم کیا اور میچ سے ایک قیمتی پوائنٹ حاصل کیا۔
فیفا عالمی درجہ بندی میں 198ویں نمبر پر موجود پاکستان کو 136ویں نمبر کی فلپائن ٹیم نے ابتدائی لمحات میں دباؤ میں رکھا۔ پاکستانی دفاع کو مسلسل آنے والی کراسز سے نمٹنا پڑا۔ محب اللّٰہ آفریدی نے ایک خطرناک نچلی کراس کو روکنے کے لیے خود کو گیند کے سامنے ڈال دیا، جبکہ گول کیپر یوسف بٹ نے آندرے لائپولڈ کو آمنے سامنے کے موقع پر شاندار انداز میں روک لیا۔
فلپائن کو 24ویں منٹ میں برتری مل گئی۔ محب اللّٰہ نے گول لائن پر ہیڈر کو روکنے کی کوشش میں گیند کو کراس بار سے ٹکرا دیا، لیکن سینڈرو ریز نے تیزی سے ردعمل دیتے ہوئے واپس آنے والی گیند کو جال میں پہنچا دیا۔
چند منٹ بعد پاکستان کو گول کرنے کا پہلا موقع ملا۔ علی اکبر نے فلپائن کے دفاع کو توڑتے ہوئے گول کی جانب پیش قدمی کی، لیکن ان کی شاٹ پر فلپائن کے گول کیپر کیون رے مینڈوزا نے ڈائیو لگاتے ہوئے شاندار بچاؤ کیا۔
پہلے ہاف کے اختتام سے قبل فلپائن نے اپنی برتری دگنی کردی۔ محمد فضل کے اپنے پنالٹی ایریا میں ہاتھ سے گیند لگنے پر فلپائن کو پنالٹی ملی، جس پر بیورن کرسٹنسن نے یوسف بٹ کو غلط سمت بھیجتے ہوئے گیند جال میں پہنچا دی۔
فلپائن نے حملے جاری رکھے، حارث زیب نے ایک خطرناک ہیڈر کو روک کر پاکستان کو بچایا جبکہ یوسف بٹ نے بھی چند منٹ بعد ایک اور اہم موقع پر مداخلت کی۔ پہلے ہاف کے آخری لمحات میں پاکستان نے جوابی حملہ کیا، لیکن مڈفیلڈر عالمگیر غازی کی دور سے لگائی گئی شاٹ گول سے اوپر چلی گئی۔
ہیڈ کوچ نولبرٹو سولانو نے وقفے کے دوران دو تبدیلیاں کیں۔ عالمگیر غازی اور عمر نواز کی جگہ علی آغا اور حیان خٹک میدان میں آئے۔
دوسرے ہاف کے آغاز کے صرف دو منٹ بعد پاکستان نے خسارہ کم کردیا۔ کپتان عبداللّٰہ اقبال نے بائیں جانب علی اکبر کو گیند دی۔ علی اکبر نے ایک دفاعی کھلاڑی کو چکما دیا اور پھر کیون مینڈوزا کی ٹانگوں کے درمیان سے گیند نکالتے ہوئے پاکستان کے لیے اپنا پہلا بین الاقوامی گول اسکور کردیا۔
پاکستان نے حملے جاری رکھے اور چند ہی لمحوں بعد حیان خٹک نے ایک موقع بنایا، تاہم ان کی شاٹ گول سے باہر چلی گئی۔ کھیل کے ایک گھنٹے پر پاکستان نے فلپائن کے دفاع کو ایک مرتبہ پھر توڑا، لیکن حیان کی جانب سے واپس کھیلی گئی گیند علی اکبر تک نہ پہنچ سکی۔
پاکستان کی واپسی اس کے کچھ ہی دیر بعد مکمل ہوگئی۔ عبدالصمد ارشد نے دائیں جانب گیند اپنے قبضے میں لی، تیزی سے پنالٹی ایریا میں داخل ہوئے، بائیں جانب مڑے اور پھر مینڈوزا کو مات دیتے ہوئے گیند جال میں پہنچا دی۔ یہ قومی ٹیم کے لیے عبدالصمد کا دوسرا بین الاقوامی گول تھا۔
سولانو نے اس کے بعد عبدالرؤف اور عبدالصمد خان کو میدان میں اتارا، جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنا بین الاقوامی ڈیبیو کیا۔ دونوں نے محمد فضل اور علی عزیر کی جگہ میدان سنبھالا جبکہ پاکستان نے اپنی جارحانہ حکمت عملی برقرار رکھی۔
دوسری جانب فلپائن کے ایک جوابی حملے میں محب اللّٰہ نے گول کے بالکل قریب سے لگائی گئی شاٹ کے سامنے آکر اسے روک دیا اور پاکستان کو ایک خطرناک موقع سے بچایا۔
اسٹیڈیم میں موجود پاکستانی شائقین مسلسل ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتے رہے اور پاکستان نے فیصلہ کن گول کے لیے دباؤ بڑھایا، تاہم فلپائن نے دفاع مضبوط رکھتے ہوئے پاکستان کو مزید گول کرنے سے روک دیا اور میچ 2-2 سے برابر ہوگیا۔
