محمد رضوان کا این سی سی آئی اے انکوائری میں تعاون نہ کرنے کا انکشاف
ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے نے محمد رضوان کے موبائل فون کے فرانزک ڈیپ اینالیسس کے لیے متعدد بار ان سے رابطہ کیا، تاہم محمد رضوان نے ہر بار خلل ڈالنے کی کوشش کی اور کوئی نہ کوئی بہانہ بنایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش میں مکمل تعاون نہ کرنا شک و شبہات میں اضافہ کر رہا ہے۔ تفتیش کو حتمی شکل دینے کے لیے فون کا اینٹی تھیفٹ لاک اور فیشل ریکگنیشن لاک کھولنا ضروری ہے۔
ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے مختلف موبائل ٹولز کی مدد سے فون کو ان لاک کر سکتی ہے، تاہم ان ٹولز کے استعمال سے کچھ ڈیٹا ڈیلیٹ ہو سکتا ہے، جو این سی سی آئی اے نہیں چاہتی۔
ذرائع نے بتایا کہ این سی سی آئی اے محمد رضوان سے 28 ستمبر کو دوبارہ رابطہ کرے گی۔ تعاون نہ کرنے کی صورت میں انہیں تحریری نوٹس بھیجا جائے گا اور قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق کچھ لوگ محمد رضوان کو اکسا رہے ہیں، تاہم وہ دراصل ان کے خیر خواہ نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کا اینٹی کرپشن کوڈ 6.1.1 انکوائری کی اجازت دیتا ہے، جبکہ آئی سی سی اے سی یو کوڈ 6.1.2 کے تحت کریمنل انکوائری کی بھی اجازت ہے۔
ذرائع نے واضح کیا کہ تفتیش مکمل ہونے تک کسی قسم کا الزام نہیں لگانا چاہتے۔ کسی کو کٹہرے میں لانا مقصد نہیں بلکہ نیشنل ہیروز کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلانا ہے۔
دوسری جانب کرکٹر امام الحق این سی سی آئی اے کی تفتیش میں تعاون کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق امام الحق کے موبائل فون کے فرانزک ڈیپ اینالیسس کا آغاز ان کی موجودگی میں کیا گیا اور امید ہے کہ ان کے فون کا ڈیپ اینالیسس جلد مکمل ہو جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امام الحق کی طرح محمد رضوان کو بھی تفتیش میں تعاون کرنا چاہیے۔
این سی سی آئی اے آن لائن بیٹنگ، کرپشن، کریمنل سرگرمیوں سمیت مختلف زاویوں سے تفتیش کر رہی ہے۔
