کانگو میں طیارہ گر کر تباہ، سربراہ فوجی عدالت، آڈیٹر جنرل سمیت 14 افراد ہلاک
کوانگو کے نائب گورنر ریمی ساکی بوکیندا نے بتایا کہ طیارہ جنوب مغربی شہر کیک وٹ سے دارالحکومت کنشاسا جا رہا تھا کہ فنی خرابی کے باعث اس نے صوبہ کوانگو کے شہر کینج میں اترنے کی کوشش کی، کینج میں لینڈنگ کے لیے رن وے موجود نہ ہونے کے باعث طیارہ رہائشی علاقے میں جا گرا۔
کانگو کی فوج کے مطابق طیارے میں فوجی عدالت کے سربراہ، فوج کے آڈیٹر جنرل جنرل لکیولیا باکومی، ایک میجر، ایک کیپٹن، دیگر فوجی اہلکار اور شہری سوار تھے۔
انہوں نے کہا کہ طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے، جن میں سے 12 افراد کی لاشیں جل کر ناقابل شناخت ہو گئیں، جبکہ پائلٹ کی لاش طیارے کے باہر سے ملی۔
کانگو کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کی فضائی حادثات کی تحقیقات کرنے والی اتھارٹی نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، یہ طیارہ کانگو کے شمالی علاقے میں فوجی سازو سامان پہنچانے کا کام کر رہا تھا جہاں آرمی مسلح تنظیموں سے لڑائی میں مصروف ہے۔
کانگو کی فوج گزشتہ سال سے ملک کے مشرقی علاقے میں درجنوں باغی گروپوں کے خلاف لڑ رہی ہے، جن میں روانڈا کی حمایت یافتہ ایم 23 باغی تنظیم بھی شامل ہے۔
باغیوں نے ملک کے مشرقی حصے کے وسیع تر علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ کانگو کی فوج کو ایک سال کے دوران باغی تنظیم ایم 23 کے ہاتھوں بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
