ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی

0

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق تجارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے یورپی صارفین کو آگاہ کیا ہے کہ ستمبر میں لوڈ ہونے والے خام تیل کے کچھ کارگو منسوخ کئے جائیں گے جبکہ بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی لوڈنگ بھی معطل کر دی گئی ہے۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ڈرون حملوں میں سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو نقصان پہنچا، سعودی عرب نے ان حملوں کا الزام عراقی ملیشیا پر عائد کیا ہے۔

 

حملوں کے بعد سعودی حکام نے جمعہ کو مشرق سے مغرب تک صحرا میں قائم تیل کی پائپ لائن بند کر دی جو گزشتہ 6 ماہ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے سعودی تیل کی برآمدات کو بڑی حد تک محفوظ رکھنے میں مدد دیتی رہی تھی۔

 

رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی سپلائی میں کمی کے بعد یورپی صارفین، بالخصوص پولینڈ، متبادل تیل کی تلاش میں تیزی لانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

 

تجارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اب آبنائے ہرمز کے راستے مزید تیل برآمد کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، اس مقصد کیلئے نام نہاد ڈارک شپمنٹس کا سہارا لیا جا سکتا ہے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور عراق پہلے ہی کر رہے ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق ایسی خفیہ یا غیر روایتی شپمنٹس کے ذریعے خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 70 لاکھ سے 90 لاکھ بیرل یومیہ تیل برآمد کرنے میں کامیاب رہے ہیں، جو جنگ سے پہلے کے حجم کا تقریباً 30 سے 40 فیصد بنتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.