ستمبر لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار نہ کرنے کا حکم
ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے کی، ملک عامر علی اور دیگر کی جانب سے وکلا شعیب شاہین اور ریاست آزاد عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت شعیب شاہین نے مؤقف اختیار کیا کہ لانگ مارچ سے قبل ایک مرتبہ پھر گرفتاریاں اور چھاپے شروع ہوگئے ہیں، پی ٹی آئی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، چھاپوں کے دوران گھروں سے سامان اور رقم بھی لے لی جاتی ہے، وہ خود مریض ہیں لیکن ان کی فیملی کو بھی مبینہ طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ گھروں سے خواتین، بچوں اور بچیوں کو بھی اٹھا کر لے جایا جاتا ہے، وہ اس حوالے سے بیان حلفی اور سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں۔
شعیب شاہین نے استدعا کی کہ عدالت ہراساں کرنے اور گرفتاری سے روکنے کا حکم جاری کر کے کیس کی آئندہ سماعت اگلے ہفتے مقرر کردے۔
جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے ریمارکس دیئے کہ ایس ایس پی آپریشنز کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں اور اس حوالے سے حکم بھی جاری کرتے ہیں، عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
عدالت نے شعیب شاہین، ملک عامر علی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں کرنے اور گرفتار کرنے سے روکتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
