اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

خیبر سے (امان علی شینواری ) جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ، تجارت کو سیاست سے دور رکھا جائے ، بغیر کسی تاخیر پاک افغان سرحدی گزرگاہ کو کھول دیا جائے

خیبر سے (امان علی شینواری ) جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ، تجارت کو سیاست سے دور رکھا جائے ، بغیر کسی تاخیر پاک افغان سرحدی گزرگاہ کو کھول دیا جائے، مسئلے کا حل ڈائیلاگ سے ممکن بنائی، بارڈر بندش سے مقامی لاکھوں لوگوں کا معاشی قتل عام کو بند کیا جائے، دونوں ہمسایہ مسلم ممالک سے امن کا مطالبہ کرتے ہیں ،مظاہرین

لنڈی کوتل بازار باچا خان چوک میں پاک افغان طورخم بارڈر بندش و حالیہ کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے معاشی قتل عام کابل و اسلام آباد کے مابین وزراء کی غیر سنجیده بیانات کے خلاف جمعیت علمائے اسلام لنڈی کوتل کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مفتی اعجاز شینواری ، کسٹم کلئیرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چئیرمین معراج الدین، صدر مجیب شینواری ،مولانا علی احمد بنوری، تحصیل چئیرمین شاہ خالد شینواری ،حاجی بنارس، جمعیت علمائے اسلام کے عاقب درویش ،مولانا عظیم شاہ ،یوتھ ایم پی اے اشفاق احمد، قاری نظیم گل شینواری نے کہا کہ پاک افغان طورخم سرحدی گزرگاہ کو بند کرنا مقامی لوگوں کی معاشی دہشتگردی کے مترادف ہے جس کو ہم کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے اور تین دن کے اندر اندر بارڈر کو غیر مشروط طور پر کھول دیا جائے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین اس مسئلے کے حل کے لیے ہم قبائلی مشران جرگہ کرنے کے لئے تیار ہیں اج 36 واں دن ہے کہ افغانستان میں سینکڑوں پاکستانی پھنسے ہوئے ہیں اور اسطرح پاکستان میں افغان مسافر پھنس چکے ہیں ان کو جذبہ خیر سگالی کے تحت اجازت دی جائے انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف اور افغانستان کے وزیر ملا عبدالغنی برادر کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کی مذمت کی گئی اور پیغام دیا کہ پاکستان اور افغانستان اپس میں مسلم برادر ممالک ہے کسی صورت ہم جنگ کے حامی نہیں ہوسکتے کیونکہ ہماری صدیوں معاشی و سماجی تعلقات چلیں ارہی ہے اس کو نظرانداز نہیں کیا جائیگا انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ڈائیلاگ سے ممکن حل نکالا جائے تاکہ تاجر برادری، مقامی مزدور و دونوں ممالک کو معاشی نقصان نہ ہو انہوں نے کہا کہ لنڈی کوتل کے عوام کا معاشی انحصار طورخم بارڈر پر ہے سرحدی گزرگاہ بندش سے ہزاروں مقامی مزدور، کلئیرنگ ایجنٹس ،تاجر و ٹرانسپورٹرز بے روزگار ہوگئے ہیں انہوں نے کہا کہ گولی و کارتوس سے تعلق بن نہیں سکتی بلکہ بگڑ جاتی ہے اور قبائلی پختون امن کے خواہاں ہیں ہمیں معاشی دہشتگردی میں نہ دھکیلا جائے بلکہ روزگار کے مواقع فراہم کی جائے اور افغانستان کے ساتھ نرم پالیسی کو اپنایا جائے تاکہ برادرانہ تعلقات بحال ہوسکے.

Related Articles

Back to top button