میر محمد امین خان عمرانی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ضلع نصیرآباد میں نوجوان نسل کو منشیات جیسے ناسور کی طرف دھکیلا جا رہا ہے
نصیرآباد (رپورٹ: چھٹہ خان عمرانی)
نصیرآباد کے خیرخواہ لیڈر سابق صوبائی وزیر بلوچستان میر محمد امین خان عمرانی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ضلع نصیرآباد میں نوجوان نسل کو منشیات جیسے ناسور کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جس کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں
انہوں نے کہا کہ ماضی میں نصیرآباد میں موٹر سائیکل سنیچنگ، ٹریکٹر چوری، گھروں میں گھس کر موٹر سائیکلیں چوری کرنے اور دیگر جرائم کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے علاقے میں بدامنی کی فضا پیدا ہو گئی تھی۔ تاہم، جب ایس ایس پی نصیرآباد اسد اللہ ناصر نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں تو یہاں میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آنا شروع ہوئی۔ میر محمد امین خان عمرانی نے کہا کہ ایس ایس پی اسد اللہ ناصر نے ایک متحرک اور ذمہ دار پولیس افسر کی حیثیت سے خود مختلف تھانوں کے اچانک دورے کیے، گشت کا نظام بہتر بنایا اور تھانوں کی کارکردگی کا براہ راست جائزہ لیا۔ ان کی مؤثر نگرانی کے باعث ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز بھی پہلے کی نسبت زیادہ فعال ہوئے، جس کے نتیجے میں چوری، سنیچنگ اور دیگر جرائم میں واضح کمی آئی، اگرچہ ان کا مکمل خاتمہ ابھی باقی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب سب سے بڑا مسئلہ ضلع نصیرآباد، خصوصاً تھانہ منجھوشوری اور تھانہ خان کوٹ کی حدود میں منشیات فروشی، منشیات کی اسمگلنگ اور نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نوجوان کھیلوں اور صحت مند سرگرمیوں سے دور ہو کر منشیات کی لت میں مبتلا ہو رہے ہیں، جس کے باعث نہ صرف ان کی صحت تباہ ہو رہی ہے بلکہ قیمتی جانیں بھی ضائع ہو رہی ہیں۔۔میر محمد امین خان عمرانی نے ڈی آئی جی نصیرآباد، ایس پی نصیرآباد اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ منجھوشوری، خان کوٹ سمیت پورے ضلع نصیرآباد میں منشیات فروشوں اور اسمگلروں کے خلاف بلاامتیاز، بھرپور اور فیصلہ کن کریک ڈاؤن کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس کارروائی میں کسی قسم کی سفارش یا سیاسی دباؤ کو خاطر میں نہ لایا جائے تاکہ نوجوان نسل کو اس مہلک ناسور سے بچایا جا سکے اور ضلع کو منشیات سے پاک بنایا جا سکے۔
