سائنس دانوں نے 2 حلقوں پر مشتمل سیاروی ملبے والا سفید بونا ستارہ دریافت کر لیا

0

سائنس دانوں کے مطابق یہ غیر معمولی دریافت اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ اربوں سال بعد سورج کے اختتام پر ہمارے نظامِ شمسی کی کیا صورت ہو سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق سفید بونا ستارہ، جسے J13281450 کا نام دیا گیا ہے، زمین سے تقریباً 1600 نوری سال کے فاصلے پر برج سنبلہ میں واقع ہے، اس کے گرد موجود ملبے کی 2 حلقوں پر مشتمل ساخت پہلے مشاہدہ کیے گئے ایسے ستاروں سے مختلف ہے، جہاں اب تک صرف ایک حلقہ دریافت ہوا تھا۔

 

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ 2 سیاروی یا چھوٹے پتھریلے اجسام اس ستارے کے گرد موجود ملبے کے حلقوں میں شامل ہیں اور ستارے کی تباہ کن تبدیلی کے باوجود بچنے میں کامیاب رہے۔

 

یہ مشاہدات یورپی سدرن آبزرویٹری کی چلی میں قائم انتہائی بڑی دوربین (ویری لارج ٹیلی اسکوپ) کے ذریعے کیے گئے، اس دریافت سے قبل ماہرینِ فلکیات نے 21 سفید بونا ستاروں کے گرد سیاروی ملبے کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی، تاہم ان سب کے گرد ملبے کی صرف ایک ڈسک دیکھی گئی تھی۔

 

نئی تحقیق کے مصنف اور چلی کی یونیورسٹی کے ماہرِ فلکیات فیلپے لاگوس ویلیچس کے مطابق یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ ستارے کے خاتمے کے بعد اس کے سیاروی نظام کی باقیات توقع سے کہیں زیادہ پیچیدہ ساخت رکھ سکتی ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق اب سے اربوں سال بعد سورج اپنا ایندھن ختم ہونے پر پھیل کر سرخ دیو (ریڈ جائنٹ) بن جائے گا اور بالآخر اپنی بیرونی تہیں جھاڑ کر ایک انتہائی کثیف سفید بونا ستارہ رہ جائے گا۔

 

اس دوران نظامِ شمسی کے بعض سیارے تباہ ہو جائیں گے، جبکہ کچھ ممکنہ طور پر بچ سکتے ہیں۔ دریافت ہونے والے سفید بونا ستارے کی کمیت سورج کے مقابلے میں تقریباً 47 فیصد ہے، تاہم اس کا پورا مادہ زمین کے تقریباً برابر قطر میں سمٹا ہوا ہے۔

 

یہ تحقیق سائنسی جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.