صحافیوں کیخلاف جرائم پر خاموشی انصاف کی آواز دبانے کے مترادف ہے: بلاول بھٹو

0

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ صحافیوں کو دھمکیوں، تشدد، ہراسانی اور قتل جیسے سنگین جرائم سے محفوظ رکھنا ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

جبکہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو سزا سے بچنے دینا عوام کے حقِ آگاہی کو خاموش کرنے کے برابر ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ صحافی عوام تک حقائق پہنچانے، طاقت کے ایوانوں کا احتساب کرنے اور معاشرے میں شعور و آگاہی پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ صحافیوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کا قانون کی گرفت سے بچ نکلنا آزادیٔ صحافت، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

 

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ 1973 کا متفقہ آئین ہر شہری کو آزادیٔ اظہار کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے اور اس حق کا تحفظ ایک جمہوری ریاست کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔

 

بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آمر ضیاء الحق کے دور کے آزادیٔ صحافت کو دبانے والے سیاہ قوانین کا خاتمہ کیا، جو پریس کی آزادی کا گلا گھونٹنے اور اس کی آواز خاموش کرنے کے لیے استعمال ہوتے رہے تھے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا یہ تاریخی اقدام جمہوریت میں اختلافِ رائے اور آزاد صحافت کی اہمیت کا اظہار تھا۔

 

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہار اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ آزاد صحافت کے بغیر نہ جمہوریت مضبوط ہو سکتی ہے اور نہ ہی عوام باخبر اور بااختیار بن سکتے ہیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.