پاکستان پولٹری پیداوار میں 11ویں نمبر پر، برآمدات بڑھانے کی ضرورت ہے: وزیر خزانہ
انٹرنیشنل پولٹری ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ایسی نمائشوں سے کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے درمیان روابط مضبوط ہوتے ہیں، حکومت پولٹری انڈسٹری کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اقدامات کر رہی ہے تاکہ اس شعبے کی استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق پولٹری انڈسٹری سے 15 لاکھ خاندان منسلک ہیں، پولٹری سیکٹر سالانہ 2.5 ارب کلوگرام گوشت اور 28 ملین انڈے پیدا کرتا ہے، اس کے باوجود پاکستان کی پولٹری برآمدات 4 ملین ڈالر سے زیادہ نہیں ہیں، جبکہ عالمی پولٹری مارکیٹ کا حجم 45 ارب ڈالر ہے، وسطی اور جنوبی ایشیا میں گوشت کی برآمدات میں پولٹری کا حصہ بھی کم ہے، جسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پولٹری انڈسٹری کی ترقی سے ملکی معیشت کو مزید مستحکم کرنے اور برآمدات میں اضافے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، حکومت اس شعبے کو درپیش مسائل دور کرنے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے کوشاں ہے۔
انہوں نے ملک بھر میں سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا فوری تدارک ہونا چاہئے، وزیراعظم بھی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام کے اقدامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے اس امید کا اظہار کیا کہ پولٹری انڈسٹری میں سرمایہ کاری، کاروباری روابط اور برآمدات کے فروغ کے ذریعے پاکستان عالمی مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھا سکتا ہے۔
