گلگت بلتستان میں رہبر ایران کی شہادت کے بعد حفاظتی اقدامات اور پرامن رویے کی اپیلیں

4

گلگت، 1–2 مارچ 2026: گلگت بلتستان میں رہبر اعلیٰ ایران، آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، جس کے تناظر میں وفاقی اور مقامی قیادت نے عوام سے صبر و تحمل اور پرامن رویہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان، انجینئر امیر مقام نے گلگت بلتستان کے گورنر، وزیر اعلیٰ، سابق وزیراعلیٰ، چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس سے ٹیلیفونک رابطے میں مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور احتجاج کے باعث جانی و مالی نقصان پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے علمائے کرام، سیاسی اور مقامی عمائدین سے بھی اپیل کی کہ وہ عوام کے جذبات کو مثبت انداز میں رہنمائی فراہم کریں۔
گورنر گلگت بلتستان، سید مہدی شاہ نے عوام سے پُر امن رہنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے گریز اور امن و امان برقرار رکھنے کی درخواست کی۔ نگران وزیراعلیٰ، جسٹس (ر) یار محمد نے کہا کہ احتجاج ہر صورت پرامن اور قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے تاکہ دشمن عناصر کو فائدہ نہ پہنچے اور ملکی اتحاد، یکجہتی اور استحکام قائم رہے۔
نگراں صوبائی وزیر اطلاعات و آئی ٹی، غلام عباس نے بھی عوام خصوصاً نوجوانوں، تاجروں اور مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی کہ تحمل، صبر اور بھائی چارے کو فروغ دیں اور فرقہ واریت و عدم برداشت سے اجتناب کریں۔
گلگت بلتستان پولیس نے عوام سے پرامن رہنے کی درخواست کی اور کہا کہ قومی املاک کو نقصان پہنچانے کی کسی کوشش کو ناکام بنانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ سکردو میں آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کر لی گئی اور ابتدائی طور پر تین دن کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ تمام غیر ملکی سیاح محفوظ مقامات پر منتقل کر دیے گئے ہیں، جبکہ شہریوں کو سفر سے قبل مناسب منصوبہ بندی اور پولیس ہیلپ لائن 1422 سے رابطہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Comments are closed.