ستارہِ امتیاز کے لیے نامزد پہلی پاکستانی ٹرانس جینڈر نایاب علی
رواں ماہ کی تین اور چار کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام پاکستان کے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق (سی ای ایس سی آر) سے متعلق رپورٹ کے جائزے کا اجلاس منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں حکومتِ پاکستان کے وفد میں ممتاز انسانی حقوق کی کارکن اور ٹرانس جینڈر خاتون نایاب علی بھی شامل ہوں گی۔
وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے رواں ماہ جاری کیے گئے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کے چار رکنی وفد کی سربراہی وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کریں گے اور اس وفد میں ناب علی ٹرانسجیڈرز کے حقوق کی کنسلٹنٹ کی حیثیت سے شامل کی گئی ہیں۔
یہ پاکستان کے لیے اس حوالے سے ایک اہم اعزاز ہے کہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے معاہدوں کے جائزے کے اجلاس میں پاکستان دوسری مرتبہ کسی ٹرانس جینڈر خاتون کو اپنے سرکاری وفد میں شامل کر رہا ہے۔
اس سے قبل فروری 2020 میں عائشہ مغل نے وزارتِ انسانی حقوق میں ٹرانس جینڈر ایکسپرٹ کی حیثیت سے اقوامِ متحدہ کی خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے سے متعلق کمیٹی (سی ای ڈی اے ڈبلیو) کے اجلاس میں پاکستان کے سرکاری وفد کی نمائندگی کی تھی۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے اس وقت عائشہ مغل کی شمولیت کو اقوامِ متحدہ کے معاہداتی جائزے میں کسی ٹرانس جینڈر فرد کی پہلی سرکاری شرکت قرار دیا تھا۔تاہم نایاب علی کے لیے اس مقام تک پہنچنے کا سفر آسان نہیں رہا۔ ان کی زندگی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے انھیں خاموش رہنے کے بجائے اپنے حقوق اور پوری برادری کے لیے آواز اٹھانے پر آمادہ کیا۔
وہ واقعہ جس نے نایاب کی زندگی کا رخ بدل دیا
نایاب علی بتاتی ہیں کہ اسلام آباد منتقل ہونے سے پہلے وہ اوکاڑہ میں اپنے گرو کے پاس رہتی تھیں۔ اسی دوران ایک ٹرانس جینڈر خاتون کو ایک تقریب کے بعد گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور اس پر شدید تشدد بھی کیا گیا۔
ان کے مطابق متاثرہ خاتون مدد کے لیے ان کے گرو کے پاس پہنچی تو گرو نے کہا کہ ٹرانس جینڈر افراد کے ساتھ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں اور اس معاملے پر آواز اٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔v2016 میں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے مرید والا میں ایک میوزک فیسٹیول کے دوران، جب نایاب پرفارم کررہی تھیں، ان پر تیزاب پھینکا گیا۔ ان کے جسم کے مختلف حصے جھلس گئے اور انھیں شدید زخم آئے۔
وہ بتاتی ہیں کہ کئی ماہ تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہیں جبکہ علاج کے دوران بھی انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
’یہ وہ دور تھا جب میرے دل و دماغ میں طوفان برپا تھا۔ میں اپنی زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ اسی دوران میں نے فیصلہ کیا کہ اب چپ نہیں رہنا، بات کرنی ہے اور لڑنا ہے۔ زندگی میں ہر مشکل سہہ چکی تھی۔‘نایاب علی کا کہنا ہے کہ ان کا بچپن بھی دوسرے بہت سے ٹرانس جینڈر افراد کی طرح محرومیوں اور سماجی رویوں کی نذر ہوا۔ والدین نے انھیں گھر سے الگ کر دیا تو انھوں نے گرو کے پاس پناہ لی۔
وہ کہتی ہیں کہ گرو کے پاس رہتے ہوئے انھوں نے دیگر افراد کی طرح شادی بیاہ اور تقریبات میں رقص، گانے اور مبارکباد دینے کا کام کیا، لیکن ان کے لیے تعلیم حاصل کرنا ہمیشہ اولین ترجیح رہی۔
خاندانی اور معاشرتی مخالفت کے باوجود انھوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ نایاب کے مطابق سکول، کالج اور یونیورسٹی میں بھی انھیں تمسخر، ہراسانی اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود انھوں نے تعلیم کا سلسلہ منقطع نہیں ہونے دیا۔
ان کی زندگی کا یہی پہلو آگے چل کر ان کی سماجی جدوجہد کی بنیاد بنا۔ وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے محسوس کیا کہ ٹرانس جینڈر افراد کو صرف تحفظ ہی نہیں بلکہ تعلیم، روزگار اور معاشرے میں باعزت مقام بھی درکار ہے۔تیزاب کے حملے سے صحت یاب ہونے کے بعد نایاب علی نے اپنی جدوجہد کو منظم شکل دی۔ انھوں نے اوکاڑہ میں خواجہ سراؤں کے لیے ایک کمیونٹی سینٹر قائم کیا، جہاں بنیادی تعلیم، خواندگی، فنی تربیت اور زندگی گزارنے کی مہارتوں سے متعلق سرگرمیاں شروع کی گئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس لیے بھی اہم تھا کہ روایتی تعلیمی اداروں میں داخلے اور سماجی قبولیت کے مسائل کے باعث خواجہ سرا افراد کی بڑی تعداد تعلیم سے محروم رہ جاتی ہے۔
نایاب علی نے 2018 کے عام انتخابات میں اوکاڑہ کے حلقے این اے 142 سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے بھی حصہ لیا۔ اس طرح انھوں نے خواجہ سرا افراد کی سیاسی نمائندگی اور انتخابی عمل میں شمولیت کے لیے بھی عملی قدم اٹھایا۔پاکستان میں ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق سے متعلق قانون سازی کے عمل میں بھی نایاب علی نے کردار ادا کیا۔ انھوں نے ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے مسائل اور مطالبات کو قانونی اور پالیسی کی شکل دینے میں معاونت کی اور ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ 2018 کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔
بعد ازاں انھوں نے انسانی حقوق کی وزارت اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام سمیت مختلف اداروں کے ساتھ مشاورتی اور پالیسی سطح پر کام کیا۔
اسلام آباد منتقل ہونے کے بعد انھوں نے خواجہ سرا افراد کے تحفظ کے لیے پولیس کے ساتھ بھی کام کیا۔ وہ اسلام آباد پولیس کے ٹرانس جینڈر پروٹیکشن یونٹ کی انچارج اور جینڈر پروٹیکشن یونٹ کی اضافی انچارج کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ان کی کاوشوں میں خواجہ سرا افراد کے خلاف تشدد کے واقعات میں پولیس کے ردعمل کو بہتر بنانا، تحفظ کے مراکز، تربیت اور پولیس کے لیے طریق? کار وضع کرنا شامل ہے۔
