امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ٹھیک چل رہے ہیں، ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، دیکھتے ہیں وہ معاہدہ کرتا ہے یا نہیں، ایران سے مذاکرات کے لیے ہمیں کوئی جلدی نہیں۔ ایران پر دوبارہ حملے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ کیسا احمقانہ سوال ہے، فرض کریں کہ میں ایسا کرتا ہوں، تو کیا میں آپ کو بتاؤں گا؟ میں آپ کو نہیں بتا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایران کی بحریہ، فضائیہ، فضائی دفاعی نظام اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں، ایک یا دو مزید جوہری تنصیبات پر کارروائی باقی ہے، ضرورت پڑی تو ان تنصیبات پر 10 منٹ میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ بات چیت اچھی جا رہی ہے اور ایران ڈیل چاہتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ وہ زیادہ قابلِ اعتبار نہیں ہیں، ہم کسی جلدی میں نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ حملے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں کہ قطر کی قیادت میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر کی گئی ہے یا نہیں تاہم انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی حل پر آمادہ ہے۔ ادھر امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے کہا ہے کہ امریکا ایران پر بمباری دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے، فوجی کارروائی امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد شروع ہو سکتی ہے، امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے آج اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے گفتگو بھی کی ہے۔ دوسری طرف ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے لب و لہجے میں مکمل تبدیلی واضح ہے، جو ایک مثبت اشارہ ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق محسن رضائی نے خصوصی انٹرویو میں انکشاف کیا کہ انہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط موصول ہوا جس کا انہوں نے بغور جائزہ بھی لیا ہے، تاہم تاحال اس کا باضابطہ جواب نہیں دیا گیا۔

0

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ٹھیک چل رہے ہیں، ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، دیکھتے ہیں وہ معاہدہ کرتا ہے یا نہیں، ایران سے مذاکرات کے لیے ہمیں کوئی جلدی نہیں۔

ایران پر دوبارہ حملے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ کیسا احمقانہ سوال ہے، فرض کریں کہ میں ایسا کرتا ہوں، تو کیا میں آپ کو بتاؤں گا؟ میں آپ کو نہیں بتا سکتا۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم ایران کی بحریہ، فضائیہ، فضائی دفاعی نظام اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں، ایک یا دو مزید جوہری تنصیبات پر کارروائی باقی ہے، ضرورت پڑی تو ان تنصیبات پر 10 منٹ میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔

 

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ بات چیت اچھی جا رہی ہے اور ایران ڈیل چاہتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ وہ زیادہ قابلِ اعتبار نہیں ہیں، ہم کسی جلدی میں نہیں ہیں۔

 

علاوہ ازیں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ حملے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا

 

مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں کہ قطر کی قیادت میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر کی گئی ہے یا نہیں تاہم انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی حل پر آمادہ ہے۔

 

ادھر امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے کہا ہے کہ امریکا ایران پر بمباری دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے، فوجی کارروائی امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد شروع ہو سکتی ہے، امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے آج اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے گفتگو بھی کی ہے۔

 

دوسری طرف ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے لب و لہجے میں مکمل تبدیلی واضح ہے، جو ایک مثبت اشارہ ہے۔

 

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق محسن رضائی نے خصوصی انٹرویو میں انکشاف کیا کہ انہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط موصول ہوا جس کا انہوں نے بغور جائزہ بھی لیا ہے، تاہم تاحال اس کا باضابطہ جواب نہیں دیا گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.