
کوئٹہ عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق نے بلوچستان حکومت کی مجوزہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پالیسی صوبے میں مثبت، تعمیری اور اصلاحی صحافت کے خاتمے اور پرنٹ میڈیا سے وابستہ سینکڑوں صحافیوں، رپورٹرز، کمپوزرز، ڈسٹری بیوٹرز اور دیگر کارکنوں کے معاشی قتل عام کے مترادف ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مقامی اخبارات محدود وسائل کے باوجود عوامی مسائل اجاگر کرنے، جمہوری آواز بلند کرنے اور دور دراز علاقوں کی نمائندگی کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں، مگر موجودہ حکومت ان اداروں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان حکومت، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) شامل ہیں، اپنی کارکردگی کو واقعی بہترین سمجھتی ہے تو پھر یہی میڈیا پالیسی سندھ، پنجاب اور وفاق میں بھی نافذ کرکے دکھائے۔ بلوچستان میں الگ اور سخت پالیسی نافذ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کے مقامی اخبارات اور آزاد صحافت کو کمزور کرنے کی منظم کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے پرنٹ میڈیا نے ہمیشہ عوامی مسائل، بدعنوانی، پسماندگی، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے فقدان کو اجاگر کیا، مگر حکومت تنقید برداشت کرنے کے بجائے اخبارات کا گلا گھونٹنے پر تلی ہوئی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق نے کہا کہ انہی مقامی اخبارات میں بیانات اور خبریں شائع کرواکر عام سیاسی کارکن سے وزارتِ اعلیٰ تک پہنچنے والے میر سرفراز بگٹی کو آج لوکل اخبارات اور پرنٹ میڈیا اچھا نہیں لگ رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل جمہوری اقدار اور آزادیٔ صحافت کے خلاف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو نے ہمیشہ آزاد اور مضبوط میڈیا کی حمایت کی، مگر افسوس کہ آج انہی کی جماعت سے تعلق رکھنے والی صوبائی حکومت ان کے میڈیا دوست وژن کے برعکس اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان حکومت فوری طور پر متنازعہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی واپس لے اور پرنٹ میڈیا، صحافی تنظیموں اور اخباری اداروں کے نمائندوں سے مشاورت کرکے ایسی پالیسی مرتب کرے جو صحافت کے فروغ، اظہارِ رائے کی آزادی اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کو یقینی بناسکے۔




