تنخواہ دار افراد اور پنشنرز کیلئے بڑی خوشخبری
تنخواہ دار افراد اور پنشنرز کیلئے بڑی خوشخبری
پاکستان :تنخواہ دارطبقے اور پنشنرز کی سہولت کیلئے (اے جی پی آر) اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو نے ”sap ماڈیول“ کو اپ ڈیٹ کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔
اے جی پی آر اورایف بی آر کے درمیان طے شدہ معاہدے کے تحت ٹیکس کو اے جی پی آر کی ٹیکس ذمہ داری کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائیگا۔ایف ٹی او نے سفارش کی ہے کہ ایس اے پی ماڈیول کو اپ ڈیٹ کی جائے تاکہ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ اور کریڈٹ یا تنخواہ دار طبقے اور پنشنرز کو سہولت فراہم کی جاسکے، جس سے ریفنڈ کے طویل عمل سے بچا جا سکے۔
اسکے علاوہ، ایک مانیٹرنگ میکانزم قائم کرنیکی تجویز دی گئی تاکہ ممکنہ بدعنوانی کو روکنے کیلئے باہمی چوری کے مرحلے پر نگرانی کی جا سکے۔ SAPکا مطلب ڈیٹا پروسیسنگ میں سسٹمز، ایپلی کیشنز اور مصنوعات ہیں۔
اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے (اے جی پی آر) اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریوینیو کی زیر صدارت ان کے دفتر میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اے جی پی آر نے اصولی طور پر اس تجویز سے اتفاق کیا تاہم انھوں نے کہا کہ رواں ماہ کے دوران ہونیوالے اے جی پی آر کے اندرونی اجلاس میں اس پر تبادلہ خیال کیا جائیگا۔
اجلاس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ ٹیکس کو( اے جی پی آر) کی ٹیکس ذمہ داری کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائیگا اور جن سیکشنز کے تحت ٹیکس کٹوتی ایڈجسٹ کی جاسکتی ہے ان کی تفصیلات فیڈرل بورڈ آف ریونیو فراہم کرنا ہوں گی۔
سفارشات پر عملدرآمد اور اے جی پی آر کے دفتر کیساتھ مزید اجلاسوں میں پالیسی سطح کے فیصلے شامل ہوسکتے ہیں۔ اے جی پی آر نے FBR سے درخواست کی ہے کہ iR (پالیسی) ونگ اس معاملے پر اے جی پی آر کے ساتھ مزید خط و کتابت کرسکتا ہے۔
اس وقت (DAO) ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفس کی سطح پر ٹیکس کٹوتی کا موجودہ ود ہولڈنگ طریقہ کار رائج ہے، کیون کہ وہ تنخواہ دار افراد کو ٹیکس کریڈٹ کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔
FTOکی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ تمام شکایت کنندگان (تنخواہ دار طبقے) کو ماخذ پر کٹوتی کے مرحلے پر دفعہ 149 کے تحت اضافی ٹیکس کٹوتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ وہ انکم ٹیکس آرڈیننس، (2001) کے دوسرے شیڈول کے حصہ اول کی شق (2) کے تحت مکمل طور پر فائدہ حاصل کرنیکے اہل ہیں۔
ایف ٹی او آفس کے نتائج میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی دفعہ 149 کے تحت قانون کی واضح شق اور موجودہ مدت کے دوران دیگر مدوں کے تحت روکے گئے ٹیکس کے لازمی کریڈٹ کی اجازت دینے کے باوجود محکمہ اس مسئلے کو حل کرنے اور ٹھوس قانون پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے اس فورم کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔
ایف ٹی او کے حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ایف بی آر مانیٹرنگ کا ایک ٹھوس طریقہ کار وضع کرے جس کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مقننہ کی جانب سے فراہم کی جانیوالی سہولت کا ود ہولڈنگ مرحلے میں غلط استعمال نہ ہو۔