بلوچستان کوئی یونین کونسل نہیں کہ تنخواہیں اور روزمرہ کیلئے فنڈز نہ ہوں ، سردار کھیتران
کوئٹہ : بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی ترجمان وصوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہاہے کہ بلوچستان کوئی یونین کونسل نہیں کہ تنخواہیں اور روزمرہ کیلئے فنڈز نہ ہوں یہ صوبہ رقبے کے لحاظ سے آدھا پاکستان ہے لوگوں کی احساس محرومی کے خاتمے کیلئے ڈیمز،سڑکوں اور انفراسٹرکچر کی صورت میں اسپیشل پیکج کی ضرورت ہے وزیراعلی بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو کافنڈز سے متعلق بیان کامقصد وزیراعظم کی توجہ بلوچستان کی طرف مبذول کراناتھا، پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کو غلط فہمی ہوئی ہے، پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے مشاورت کی گئی تھی، پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے کہنے پر انکے ارکان کابینہ میں شامل کیے، ہم سب کو ساتھ لے کر چلانا چاہتے ہیں،موجودہ عوامی حکومت عوام کے امیدوں پر پورا اترے گی،تمام سیاسی جماعتوں کے اکابرین کاتعاون حاصل ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے سابق وزیراعلی بلوچستان جام کمال اور پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند کے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کیا۔سردارعبدالرحمن کھیتران نے کہاکہ سابق وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے میڈیا سے بات چیت میں کہاتھاکہ خزانہ میں اس وقت 40سے50ارب روپے موجود ہیں ان کی بات درست ہے بلوچستان بہت بڑا صوبہ ہے رقبے کے لحاظ سے یہ صوبہ آدھا پاکستان ہے یہ کوئی یونین کونسل نہیں کہ ہم کہے کہ ہمارے پاس تنخواہوں یا روزمرہ کیلئے پیسے نہیں ہے وزیراعلی بلوچستان کے کہنے کا مقصد تھا کہ بلوچستان چونکہ رقبے کے لحاظ سے آدھا پاکستان ہے ہم نے مرکز سے یہ گزارش کی تھی کہ وہ بلوچستان کیلئے رقبے کی بنیاد پرپسماندگی کے خاتمے کیلئے اسپیشل پیکج کااعلان کیاجائے بلوچستان میں جیسے ترقی ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہو رہی ہے انہوں نے کہاکہ ٹیکسز کی وصولی ودیگر وسائل کے بدولت بلوچستان اس پوزیشن میں نہیں کہ ہمارے پاس تنخواہوں کے پیسے نہیں ہیں،وزیراعلی کے بیان کامقصد وزیراعظم کی توجہ بلوچستان کی طرف مبذول کرانا تھا بلوچستان پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ یہاں کے لوگوں کی احساس محرومی ختم ہوں اور ہمیں ڈیمز، روڈوں،انفراسٹرکچر کی صورت میں اسپیشل پیکج کی ضرورت ہے موجودہ عوامی حکومت عوام کے امیدوں پر پورا اترے گی،تمام سیاسی جماعتوں کے اکابرین کاتعاون حاصل ہیں پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت نے کہا کہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا، سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ بلوچستان حکومت کی طرف سے وضاحت ضروری سمجھتا ہوں، حکومت بنانے اور کابینہ کے حلف اٹھانے میں تمام جماعتوں کی مشاورت شامل ہے، پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے مشاورت کی گئی تھی، پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے کہنے پر انکے ارکان کابینہ میں شامل کیے، ہم سب کو ساتھ لے کر چلانا چاہتے ہیں، تمام جماعتوں کے مشوروں اور رہنمائی سے بلوچستان کی ترقی چاہتے ہیں، سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ ہم نے تمام حکومتی و اپوزیشن اراکین سے مشاورت کی ہے، وقت کم ہے ہم نے ثابت کرنا ہے کہ حکومت چلانے کی صلاحیت ہے، پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کو غلط فہمی ہوئی ہے، پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔