پاکستان کے ترقیاتی مسائل کی بنیادی وجہ سیاسی استحکام، تسلسل اور بچوں پر تسلسل کے ساتھ سرمایہ کاری کا فقدان ہے،احسن اقبال
اسلام آباد۔17دسمبر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نےکہا ہے کہ پاکستان کے ترقیاتی مسائل کی بنیادی وجہ پالیسیوں یا خیالات کی کمی نہیں بلکہ سیاسی استحکام، تسلسل اور بچوں پر مسلسل سرمایہ کاری کا فقدان ہے۔ بدھ کو یونیسف، پائیڈ اور حکومت پاکستان کی مشترکہ معاونت سے Shaping policy through evidence: Strenthening systems for children in Pakistan کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محض فزیکل انفراسٹرکچر بامعنی ترقی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔انہوں نے کہاکہ آپ جتنا بھی سرمایہ فزیکل انفراسٹرکچر پر لگا لیں، اگر سماجی و معاشی بنیاد کمزور ہو تو وہ سیمنٹ اور سٹیل سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا ۔احسن اقبال نے کہا کہ قومی وڑنز، جن میں وڑن 2010 اور وڑن 2025 شامل ہیں، منصوبہ بندی میں تسلسل کو مرکزی حیثیت دیتے رہے ہیں، مگر سیاسی عدم استحکام کے باعث ان پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سیاسی تاریخ میں کسی بھی معاشی منصوبے کو تسلسل کے ساتھ آگےنہیں بڑھنے دیا گیا۔ پروگرام بار بار منقطع ہوئے اور اسی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔انہوں نے موجودہ دور کو ملک کے لیے فیصلہ کن مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ نازک نہیں بلکہ فیصلہ کن موڑ ہے۔ ہمیں طے کرنا ہوگا کہ ہم گزشتہ 78 برسوں کی غلطیاں دہراتے رہیں گے یا کوئی نیا راستہ اختیار کریں گے۔انہوں نے پالیسی سازوں اور رائے عامہ کے رہنماو ¿ں پر زور دیا کہ وہ کامیاب معیشتوں کے تجربات سے سبق سیکھیں۔وفاقی وزیر نے عوامی پالیسی کو بیج سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ بہترین تیار کردہ پالیسیاں بھی معاون ماحول کے بغیر نتائج نہیں دے سکتیں۔انہوں نے کہا کہ پالیسیاں بیج کی مانند ہیں۔ صرف بیج فصل کی ضمانت نہیں دیتا، اس کے لیے درست مٹی، نمی، موسم اور استحکام ضروری ہے ،پاکستان کی ناکامی یہی رہی ہے کہ وہ ایسا سازگار ماحول پیدا نہ کر سکا۔بین الاقوامی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے پائیدار ترقی کے چار ستون بیان کیے:امن، سیاسی استحکام، طویل المدتی پالیسی تسلسل اور مسلسل اصلاحات۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ امن اور سیاسی استحکام کے بغیر بھی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پالیسیوں کو ثمر ا?ور ہونے کے لئے کم از کم دس سال درکار ہوتے ہیں ۔اگر کسی پالیسی کو درمیان میں روک دیا جائے تو وہ دوبارہ صفر سے شروع ہوتی ہے۔انہوں نے بھارت، بنگلہ دیش، ملائیشیا اور سنگاپور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے تک مستحکم حکمرانی نے وہاں معیشتوں کو تبدیل کیا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ استحکام کے ساتھ اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ اگر مسلسل اصلاح اور جدید کاری نہ ہو تو استحکام محض جمود کو مضبوط کرتا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو خیالات یا تکنیکی علم کی کمی نہیں۔ بین الاقوامی ڈونرز اور مشیروں کی تیار کردہ بے شمار رپورٹس اس کا ثبوت ہیں۔ ان کے بقول اصل مسئلہ،”جاننے اور کرنے کے درمیان خلا“ ہے۔انہوں نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسرز جیفری ففر اور رابرٹ سٹن کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کامیاب ادارے وہ ہوتے ہیں جو علم کو عمل میں ڈھالتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایک بیمار ادارہ سب کچھ جانتا ہے مگر عمل نہیں کر پاتا کیونکہ اس کے نظام اور مراعات تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہی صورتحال سرکاری اداروں میں بھی نظر آتی ہے۔ کسی بھی وزارت میں چلے جائیں، آپ کو اس بارے میں شاندار پریزنٹیشنز ملیں گی کہ کیا کیا جانا چاہیے، لیکن جب عمل کی بات آتی ہے تو تصویر مایوس کن ہوتی ہے، مفادات اور رسک لینے کا گہری جڑیں رکھنے والا خوف اصلاحات میں رکاوٹ ہے۔انسانی ترقی پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے تعلیم اور بچوں کی فلاح کو قومی ترجیح بنانے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کے معاشی اشاریے متوسط آمدنی والے ممالک جیسے ہیں، مگر سماجی اشاریے بہت پیچھے ہیں۔ ا?دھی بنیاد کمزور ہو تو آپ ایک مضبوط عمارت نہیں بنا سکتے ۔2023 کی مردم شماری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آبادی کی شرح نمو دوبارہ بڑھ کر تقریباً 2.55 فیصد سالانہ ہو گئی ہے اور ہر سال 65 لاکھ سے زائد بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک کے پاس ان بچوں کی تعلیم، صحت اور فلاح کے لیے مناسب وسائل موجود ہیں۔انہوں نے بچوں میں غذائی قلت (اسٹنٹنگ) پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے تقریباً 40 فیصد کی سطح پر جمود کا شکار ہے۔انہوں نے کہاکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے 40 فیصد بچے جسمانی طور پر کمزور اور ذہنی طور پر پوری طرح نشوونما نہیں پا رہے۔ ایسے دور میں جہاں تخلیقی صلاحیت، جدت اور دماغی قوت کامیابی کا تعین کرتی ہے، ہم اس حالت میں مقابلہ نہیں کر سکتے۔ وفاقی وزیر نے بچوں پر فوری اور مسلسل سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اپنا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے ہمیں بچوں میں غذائی قلت ختم کرنی ہوگی اور ان کی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صرف استحکام اور پالیسی تسلسل ہی اصلاحات کو پائیدار نتائج تک پہنچا سکتا ہے

Comments are closed.