حکومت کی نااہلی کی وجہ سے بلوچستان کے 40ارب لیپس ہوئے ، ملک سکندر ایڈووکیٹ

0

کوئٹہ : اجلاس میں ریکوزیشن ایجنڈے پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت نے قواعد وضوابط کے تحت فروری سے اپریل کے مہینے کے دوران پری بجٹ اجلاس بلا کر اس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق تجاویز لینی ہوتی ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اپوزیشن نے مایوس ہو کر آج ریکوزیشن اجلاس طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پری بجٹ اجلاس بلانا حکومت کی ذمہ داری تھی جس کے لئے وزیرقانون اور وزیر داخلہ کو سپیکر سے باقاعدہ رابطہ کرکے اجلاس طلب کرنا چاہئے تھا مگر ایسا نہیں ہوسکا اس کے برعکس گزشتہ پورااجلاس پینل آف چیئر مین کے ذریعے چلایا گیا انہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاس 18جون کو طلب کیا جارہا ہے ب بھی وقت ہے کہ حکومت بجٹ 21یا22جون کو پیش کرے اور اس سے قبل پری بجٹ اجلاس کرلیں اگر ایسا نہیں کیا گیا اور قوانین کو روندھنے کا سلسلہ جاری رہا تو یہ ایوان اور اس کے ارکان کی بے توقیری ہوگی سپیکر ک اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے پری بجٹ بحث کرانی چاہئے انہوں نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے متروکہ وقف املاک کا بل قوانین بلڈوز کرکے پیش کیا اس بل کے تحت مساجد اور مدارس کو عالمی سازش کے تحت کنٹرول میں لیا جارہا ہے جس پر مذہبی طبقات نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔یہ قانون عالمی سطح پر مسلمانوں کو تہس نہس کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے ہم نے احتجاج بھی کیا مگر ڈپٹی سپیکر نے ہماری ایک نہ سنی اور بل کو منظور کرلیا اب مذہبی طبقات نے اس بل کو مسترد کیا ہے اور ایسا احتجاج ہوگا کہ وہ یاد رکھیں گے۔مساجد اور مدارس کو اغیار کے ہاتھوں میں نہیں دینے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تین سال سے اپوزیشن کے تئیس ارکان کو دیوار سے لگایا جارہا ہے عوام کے لئے دروازے بند کردیئے گئے ہیں جو کہ جمہوری اور انسانی معاشرے کے اصولوں کے برخلاف ہے 2013ء سے قبل وزراء کو مراعات ملتی تھیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو علاقے کے نمائندے تھے ان کی تجاویز پر بجٹ میں عوامی مسائل کے حل کے لئے منصوبے شامل کئے جاتے تھے اس وقت حلقے اور علاقے کی ترقی کے لئے حکومت اور اپوزیشن کو برابر رکھا جاتا تھا مگر تین سال سے غیر آئینی، غیر قانونی، غیر انسانی عمل روا رکھا گیا ہے اپوزیشن کے ساتھ وقت گزرجائے گا مگر تاریخ حکومت کو معاف نہیں کرے گی اپوزیشن نے اسمبلی کے اندر، باہر چیف جسٹس، چیف سیکرٹری کو غیر آئینی، غیر قانونی، غیر انسانی عمل سے آگاہ کیا تین سال سے مظالم ہورہے ہیں مگر ہماری شنوائی نہیں ہورہی جس پر ہمیں احتجاج پر مجور کیا گیا انہوں نے کہا کہ بجٹ کا مقصد ہر علاقے کو اس کی ضروریات کے مطابق ترقیاتی فنڈز دینا ہے ارکان ایوان میں اپنے علاقے کی ضروریات پیش کرتے ہیں اور ان کی بہتری کے لئے تجاویز دیتے ہیں میرے حلقے میں پینے کے پانی کا مسئلہ ہے، تعلیم کے لئے کالجز نہیں ہیں۔ صحت کے لئے ہسپتال نہیں ہیں نواں کلی کے نام پر بننے والا ہسپتال دراصل زرغون ہاؤسنگ میں بن رہا ہے جو کہ نواں کلی نہیں بلکہ پی بی32کا حصہ ہے مگر تمام تر ضروریات کے برعکس بجٹ میں اپنی مرضی کے منصوبے شامل کئے جارہے ہیں انہوں نے کہاکہ زرغون ہاؤسنگ سکیم میں بننے والے ہسپتال کو بھی ایک حکومتی اتحادی جماعت کے نام پر کردیا گیا جبکہ یہ منصوبہ در اصل سابق وزیر عین اللہ شمس نے نواں کلی میں شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں بجلی کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے کئی کئی گھنٹے بجلی نہیں ہوتی جبکہ وولٹیج کم ہونے کی وجہ سے برقی آلات جل رہے ہیں حکومت کے ذمے کیسکو کے 55ارب روپے کے واجبات ہیں جو ادا نہیں کئے جارہے جس کی وجہ سے عام صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے صوبے کے سرد علاقوں میں گیس نہیں ہے ظلم اور جبر پر کھل کر بحث ہوتی تو شاید غلط منصوبہ بندی رک جاتی۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے نواحی علاقے جنہیں حال ہی میں میٹروپولیٹن کارپوریشن میں شامل کیا گیا ان میں سہولیات نہیں دی گئیں علاقے کے نمائندے کوئی اور جبکہ کروڑوں روپے کے فنڈز کوئی اور لوگ خرچ کررہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.