
کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی اجلاس پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ کوئٹہ چمن شاہراہ چار روز تک بند رہی جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر حکومت اس قدر بے حس ہوچکی ہے کہ اس نے احتجاج ختم کروانے تک کی زحمت نہیں کی دوسری جانب ایک ادارے کی جانب سے گاڑیاں پکڑی گئیں اور دوسرے ادارے نے کہا کہ احتجاج کرو انہوں نے کہا کہ پشتون قوم کو دانستہ طو رپر مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ کوئی اور راستہ اختیار کریں جس کی واضح مثال جانی خیل میں جنازوں کے ساتھ احتجاج، علی وزیر کی چھ ماہ سے گرفتاری سمیت دیگر واقعات شامل ہیں۔ سپیکر رولنگ دیں کہ تحقیقات کی جائیں کہ کوئٹہ چمن شاہراہ چار روز تک کیوں بند رہی نصراللہ زیرئے نے کہا کہ حکومت نے پری بجٹ اجلاس طلب نہ کرکے اور اپوزیشن کی تجاویز بجٹ کا حصہ نہ بنا کرآئین اور اسمبلی قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی ہے رواں اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے اسمبلی کو اعتماد میں نہیں لیاگیا خدشہ ہے کہ ہر چیز بیورو کریٹ اور بااثر اراکین اسمبلی کے حلقوں کے لئے ہوگا انہوں نے کہا کہ اسمبلی اجلاس میں حکومتی اراکین اسمبلی اجلاس میں شرکت کرنے کی بجائے اپنے منصوبے بجٹ میں شامل کرانے کے لئے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں موجود ہیں گزشتہ تین سال سے اپوزیشن اراکین کے حلقوں کو نظر انداز کرکے آدھے صوبے کو ڈویلپمنٹ سے محروم کیاگیا ہے ہماری تجاویز کو بجٹ میں شامل کرنے کی بجائے ردی کی ٹوکری میں ڈالا گیا جو عوام دشمنی کا ثبوت ہے۔ جن منصوبوں میں کرپشن ہے ان کے لئے بجٹ میں خطیر رقم رکھی جارہی ہے جون کے ختم ہونے سے قبل سڑکیں بنائی جارہی ہیں جبکہ یونیورسٹی کے اساتذہ تنخواہوں کے حصول کے لئے بھاگ رہے ہیں انہیں تنخواہیں نہیں مل رہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی طرح بے توقیر حکومت صوبے کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں آئی پی ایچ ای کے وزیر نے اپنے بھتیجوں اور بھانجوں کو تعینات کیا ہے جس کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے انہوں نے وفاقی بجٹ کا تذکر ہ کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے آٹھ ہزار ارب روپے کا وفاقی بجٹ میں تین سو ارب سے زائد کے مزیدٹیکس عوام کو برداشت کرنے پڑیں گے بلوچستان میں لاکھوں بچے سکول سے باہر ہیں، غذائی قلت اور دیگر امراض کا شکار ہیں لسبیلہ کے ہسپتال میں ایکسرے مشین تک نہیں ہے۔ کورونا کے نام پر خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود فاطمہ جناح ہسپتال میں محض سات وینٹی لیٹرز ہیں اور صوبے میں صرف ایک فیصد لوگوں کی ویکسی نیشن ہوئی ہے لوگ کورونا سے مررہے ہیں انہوں نے کہا کہ مشرقی بائی پاس پر سستی بستی اور سرکاری قبرستان کی اراضی پر قبضہ کیا جارہا ہے بجٹ میں نظر انداز کئے جانے کے خلاف کل سے دما دم مست قلندر ہوگا



