بلوچستان

بلوچستان کے ملازمین کے سات سو میڈیکل(ری ایمبر سمنٹ)بلز گزشتہ آٹھ ماہ سے التواء کا شکار

کوئٹہ:بلوچستان کے ملازمین کے سات سو میڈیکل(ری ایمبر سمنٹ)بلز گزشتہ آٹھ ماہ سے التواء کا شکار ملازمین بیماری کی حالت میں سول سیکرٹریٹ اور محکمہ صحت کے دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور سیکرٹریز اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام ذاتی مفادات کے حصول میں ملازمین کے بنیادی حقوق سے غافل ہو گئے متاثرہ افراد میں محکمہ صحت، زراعت، ایکسائز، پولیس، جنگلات، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، واسا اور ایری گیشن سمیت سات سو ملازمین شامل ہیں جنہیں تنخواہوں سے کٹوتی کئے گئے بنیوولینٹ فنڈ سے میڈیکل ری ایمر سمنٹ بلز کی مد میں ادائیگی کی جاتی ہے اس سلسلے میں ایپکا کے رہنماء حاجی نور الدین تاج اور محمد طاہر حسین نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملازمین کے میڈیکل بلز کی فوری ادائیگی کیلئے اقدامات کریں تاکہ وہ اپنے واجبات قرجوں کی ادائیگی کے قابل ہو سکیں واضح رہے کہ سرکاری ملازمین مختلف بیماریوں اور صوبہ میں علاج معالجہ کی سہولیت نہ ہونے کے باعث اندرون ملک ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں اور اپنے علاج معالجہ کے اخراجات کیلئے انتہائی مقروض ہو چکے ہیں جس کی واپسی کا واحد طریقہ ری ایمبرسمنٹ بلوں کا حصول ہے جس کی ادائیگی چیف سیکرٹری بلوچستان سمیت متعلقہ حکام کی غفلت ولا پر واہی کے باعث گزشتہ سات ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button