کابل: امریکا انخلا کے حتمی مرحلے میں، طالبان ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھالنے کیلئے تیار

0 29

امریکی افواج 2 دہائیوں تک افغانستان میں رہنے کے بعد اب کابل سے نکلنے کے حتمی مرحلے میں ہیں اور فوجیوں کے انخلا سے قبل ایئرپورٹ پر صرف ایک ہزار سے کچھ زائد شہری موجود ہیں جنہیں وہاں سے باہر نکالنا ہے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابقایک مغربی سیکیورٹی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس آپریشن کو ختم کرنے کے وقت اور تاریخ کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب طالبان کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ملک کے نئے حکمران ایئرپورٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکا کو افغانستان سے منگل تک نکالنے کی حتمی تاریخ پر عمل کریں گے۔

ایئرپورٹ پر تعینات ایک عہدیدار نے کہا کہ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہر غیر ملکی شہری جو خطرے میں ہے اسے نکال لیا جائے اور جب یہ عمل مکمل ہوجائے گا تو افواج بھی پرواز کر جائیں گی۔

جب طالبان 15 اگست کو دارالحکومت میں داخل ہوئے تو مغرب کی حمایت یافتہ حکومت اور افغان فوج ڈھے گئی ایک انتظامی خلا رہ گیا جس سے مالی تباہی اور وسیع بھوک کے خدشات کو تقویت ملی۔

امریکا کے ساتھ ہوئے ایک معاہدے کے تحت طالبان نے کہا تھا کہ وہ غیر ملکیوں اور افغان شہریوں کو باہر جانے کی اجازت دیں گے۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں نے گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران ایک لاکھ 13 ہزار 500 افراد کو افغانستان سے باہر نکالا ہے لیکن ہزاروں اب بھی باقی ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایئرپورٹ پر موجود فوجیوں کی تعداد 5 ہزار 800 سے کم ہو کر 4 ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے۔

ترجمان پینٹاگون جان کربی نے صحافیوں کو بتایا کہ کچھ فوجی دستوں کو نکال لیا گیا ہے لیکن یہ بتانے سے انکار کیا کہ اب کتنے باقی ہیں۔

طالبان کے عہدیدار نے کہا کہ ان کے انجینیئرز اور ٹیکنیشنز ایئرپورٹ کا انتظام سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر عہدیدار کا کہنا تھا کہ کابل ایئرپورٹ کا مکمل انتظام سنبھالنے کے لیے ہم امریکیوں کے حتمی اشارے کے منتظر ہیں۔

مغربی سیکیورٹی عہدیدار نے کہاکہ امریکی حکومت کی جانب سے ایئرپورٹ کے باہر ایک اور خود کش حملے کے انتباہ کے بعد ایئرپورٹ کے دروازے پر ہجوم کم ہوا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.