افغانستان میں نیا نظام کیسا ہوگا؟ طالبان کےامیرملا ہیبت اللہ کی قندھارمیں مشاورت

0 31

طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ افغانستان پہنچ چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کے زیر قیادت افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کیلئے مشاورت جاری ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق ملا ہیبت اللہ اخونزادہ چار روز سے قندھار میں مستقبل کے نظام پر مشاورت کر رہے ہیں۔ افغان میڈیا طالبان کے اہم رہنماؤں سے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر گفتگو جاری ہے۔

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق افغانستان میں نئی حکومت کے لیے کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ امریکی افواج کے انخلا کے بعد مکمل کابینہ کا اعلان کیا جائے گا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے غیر ملکی خبر ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان میں نئے سیٹ اپ کی تیاری کر رہے ہیں۔ امریکی افواج کے انخلا کے بعد مکمل کابینہ کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت کی تشکیل سے افغان کرنسی کی قدر میں بہتری ہو گئی اور معاشی افراتفری کم ہو جائے گی۔

ادھر حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ افغانستان میں ایسی حکومت ہونی چاہیے جو بین الاقوامی برادری کو منظور ہو۔

کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار نے کہا کہ غیر ملکی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ جنگ ختم ہو لیکن اب ان کا ایجنڈا ناکام ہو گیا ہے۔ افغان عوام چاہتی تھی کہ غیر ملکی قوتیں یہاں سے چلی جائیں، اب ایسا ہو گیا ہے۔

گلبدین حکمت یار نے کہا کہ طالبان خواتین کو ناصرف حقوق دیں گے بلکہ ان کا تحفظ بھی کریں گے۔ انہوں نے بھی طالبان کو مشورہ دیا کہ خواتین کو شریعت کی رو سے کام کرنے کی اجازت دی جائے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے افغانستان میں فوڈ سپلائی کے لئے پاکستان سے مدد طلب کر لی ہے۔ عالمی ادارہ خوراک افغانستان میں آپریشن پاکستان سے کرے گا۔ اس سلسلے میں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے آپریشن کرنے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق امدادی پرواز میں فوجی سامان لے جانا منع ہوگا۔ عالمی ادارہ خوراک کو فیس ادا کرنی ہوگی۔ مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ دو افراد پر مشتمل پرواز اسلام آباد سے روزانہ کابل کے لئے روانہ ہوگی۔ ایم 18 ہیلی کاپٹر کے ذریعے 6 افراد پشاور سے خوراک لے کر کابل جائیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.