
پاکستان نے یورپی پارلیمنٹ میں توہین مذہب کے حوالے سے ملکی قانون پر قرارداد کی منظوری پر مایوسی کا اظہار کردیا۔
ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چوہدری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘ملک میں توہین کے قانون پر یورپین پارلیمنٹ میں قرارداد منظور کرنے پر پاکستان کو مایوسی ہوئی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘یورپین پارلیمنٹ میں یہ عمل پاکستان اور وسیع پیمانے پر مسلم دنیا میں توہین کے قانون اور مذہبی حساسیت کے حوالے سے آگاہی میں کمی کا عکاس ہے’۔
دفترخارجہ نے کہا کہ ‘پاکستان کے عدالتی نظام اور مقامی قوانین کے حوالے سے غیر ضروری تبصرہ قابل افسوس ہے’۔
بیان میں کہا گیا کہ ‘پاکستان ایک پارلیمانی جمہوری ملک ہے جہاں فعال سول سوسائٹی، آزاد میڈیا اور آزاد عدلیہ ہے اور اپنے تمام شہریوں کے حقوق کا بلاتفریق تحفظ کے لیے پرعزم ہے’۔
ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ‘ہمیں اپنی اقلیتوں پر فخر ہے جنہیں برابر حقوق حاصل ہیں اور آئینی طور پر بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ ہے، انسانی حقوق کی کسی خلاف ورزی کی صورت میں عدالتی اور انتظامی سطح پر تلافی موجود ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان نے مذہبی آزادی، تحمل اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے فعال ادا کر چکا ہے’۔
بیان میں کہا گیا کہ ‘ایک ایسے وقت میں جب اسلاموفوبیا بڑھ رہا ہے تو عالمی برادری کو اسلاموفوبیا، عدم برداشت اور مذہبی اور عقائد کی بنیاد پر بڑھتے مسائل کے خاتمے کے لیے مشترکہ حل نکالے’۔
دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کے لیے کئی میکنیزم ہیں، جن میں جمہوریت پر مذاکرات، قانون کی بالادستی، گورننس اور انسانی حقوق کے شعبے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم یورپی یونین کے ساتھ مثبت انداز میں تمام مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔
قبل ازیں یورپین پارلیمنٹ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کو دیے گئے جی ایس پی پلس اسٹیٹس پر نظرثانی کی قرارداد منظور کر لی تھی۔
قرارداد میں حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ ملک میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہونے والے تشدد اور امتیازی سلوک کی “بلا امتیاز مذمت” کریں جبکہ پاکستان میں فرانس مخالف جذبات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔




