بچوں کی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک بڑھتی ہوئی اور غیر منظم رسائی نہایت سنگین مسئلہ ہے ، ریاستی اداروں کو مشترکہ اور جامع حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
اسلام آباد۔16جنوری :وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان بالا کو بتایا ہے کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک بڑھتی ہوئی اور غیر منظم رسائی ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لئے تمام ریاستی اداروں کو مشترکہ اور جامع حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ جمعہ کو سینیٹر فلک ناز اور دیگر کی جانب سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ اور غیر نگرانی شدہ استعمال کے حوالے سے پیش کئے گئے توجہ دلاو ¿ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ مسئلہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہے اور نہ ہی اسے کسی ایک دور، ایک حکومت یا کسی ایک فریق تک محدود کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اپوزیشن اور حکومت کا معاملہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی قومی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر فلک ناز کی جانب سے اٹھایا گیا نکتہ بالکل درست ہے اور اس پر متعلقہ پارلیمانی فورم پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کوئی ایک ادارہ اس مسئلے کو اکیلے حل نہیں کر سکتا بلکہ اس کے لئے وزارتِ داخلہ، وزارتِ تعلیم، ایف آئی اے سائبر ونگ، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اور دیگر ریگولیٹری اداروں کے باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک اس طرح کے مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ ہر جگہ بڑھ رہا ہے اور اب تک کوئی بھی ملک اس کا مکمل یا مثالی حل تلاش نہیں کر سکا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ اگرچہ کئی سوشل میڈیا ایپس میں عمر کی تصدیق کے نظام موجود ہیں تاہم ان پر عملدرآمد کمزور ہے جس کے لئے واضح قانون سازی اور کثیر الادارہ تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سینیٹ ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کرے تو حکومت اس کی مکمل حمایت کرے گی، ایسی کمیٹی بچوں کو ڈیجیٹل نقصانات سے بچانے کے لئے ایک متحد، قومی اور جامع پالیسی مرتب کر سکتی ہے۔ اس سے قبل توجہ دلاو ¿ نوٹس پیش کرتے ہوئے سینیٹر فلک ناز نے کہا کہ لاکھوں کم عمر بچے بغیر نگرانی کے ٹک ٹاک، انسٹاگرام، وی پی این اور دیگر پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہیں جس کے باعث وہ نامناسب مواد، آن لائن ہراسانی، نفسیاتی مسائل اور خطرناک رجحانات کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے حالیہ افسوسناک واقعات جن میں ثنائ یوسف کا کیس بھی شامل ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر منظم سوشل میڈیا استعمال بچوں کی جان، ذہنی صحت اور سماجی نشوونما کے لئے شدید خطرہ بن چکا ہے۔
Comments are closed.