اسلام آباد میں کتاب ’’ڈیفنس اینڈ ڈپلومیسی: ایس ایم ہالی کے منتخب مضامین‘‘ کی رونمائی
عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
اسلام آباد: انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے انڈیا اسٹڈی سینٹر کے زیر اہتمام معروف تجزیہ کار اور مصنف سلطان محمود ہالی کی کتاب ’’ڈیفنس اینڈ ڈپلومیسی: ایس ایم ہالی کے منتخب مضامین‘‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی سینیٹر نثار اے میمن، سابق چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاع و دفاعی پیداوار تھے، جبکہ ایئر چیف مارشل (ر) سہیل امان، سابق چیف آف ایئر اسٹاف، مہمانِ اعزازی کے طور پر شریک ہوئے۔
تقریب سے خطاب کرنے والوں میں کتاب کے مصنف سلطان محمود ہالی، سفیر نائلہ چوہان (سابق ہائی کمشنر پاکستان ٹو آسٹریلیا)، وائس ایڈمرل (ر) محمد ہارون (سابق وائس چیف آف نیول اسٹاف) اور ڈاکٹر عالیہ سہیل خان، کنٹری ڈائریکٹر، امریکن انسٹیٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز شامل تھے۔
کتاب میں شامل 12 مضامین دفاع، سلامتی، اسٹریٹجک امور اور سفارتی چیلنجز کا جامع احاطہ کرتے ہیں، جو پاکستان اور خطے کو درپیش اہم مسائل پر گہرا تجزیہ پیش کرتے ہیں۔
استقبالیہ خطاب میں سفیر خالد محمود، چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس ایس آئی نے سلطان محمود ہالی کی علمی و صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 22 برسوں میں دس ہزار سے زائد مضامین تحریر کر چکے ہیں، جو ان کی فکری گہرائی کا واضح ثبوت ہیں۔
مہمانِ خصوصی سینیٹر نثار اے میمن نے سلطان محمود ہالی کو ان کی 16ویں کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ تصنیف ایک طویل، مستقل اور سنجیدہ فکری محنت کا ثمر ہے۔
ڈائریکٹر انڈیا اسٹڈی سینٹر ڈاکٹر خرم عباس نے اپنے خیر مقدمی کلمات میں کہا کہ آئی ایس ایس آئی ہمیشہ فکر انگیز اور معیاری علمی تحریروں کی حوصلہ افزائی کرتا رہے گا۔
مصنف سلطان محمود ہالی نے آئی ایس ایس آئی اور تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کو بطور سپاہی، صحافی اور دفاعی اتاشی بیان کیا۔
سفیر نائلہ چوہان نے کتاب کو تجربے، تجزیے اور مؤثر اظہار کا خوبصورت امتزاج قرار دیا، جبکہ ڈاکٹر عالیہ سہیل خان نے کتاب کا تفصیلی علمی جائزہ پیش کرتے ہوئے اسے علمی ذخیرے میں اہم اضافہ کہا۔
ایئر مارشل (ر) سہیل امان نے کتاب کو مصنف کی حب الوطنی اور قومی سوچ کا عکاس قرار دیا، جبکہ وائس ایڈمرل (ر) محمد ہارون نے مضامین کو تحقیق پر مبنی اور فکر انگیز قرار دیا۔
تقریب کا اختتام کتاب کی رسمی رونمائی، گروپ فوٹو اور ریفریشمنٹ پر ہوا۔
Comments are closed.