جیکب آباد میں بدامنی عروج پر: غلام شاہ روڈ پر مسلح ڈاکوؤں کی بڑی واردات، ٹھل میں شہری سڑکوں پر نکل آئے

26

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
جیکب آباد (رپورٹ: عبدالباقی) | 15 جنوری 2026
جیکب آباد میں جرائم کی بڑھتی ہوئی لہر پر شہری عدم تحفظ کا شکار ہو گئے۔ تحصیل گڑھی خیرو کے غلام شاہ روڈ پر تھانہ محمد پور کی حدود میں 15 سے زائد مسلح ڈاکوؤں نے ناکہ بندی کر کے وکیل گلزار احمد رند کے بھائی زاہد رند کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ان سے مہرھان کار (ماڈل 2006)، نقدی، موبائل فون اور دیگر قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔
متاثرہ کے بھائی وکیل گلزار رند نے بتایا کہ ڈاکوؤں کے منظم گروہ نے رات کے وقت ان کے بھائی کو روکا، تشدد کیا اور لوٹ مار کے بعد آسانی سے فرار ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی مبینہ نااہلی کے باعث ڈاکو سرعام وارداتیں کر رہے ہیں جبکہ پولیس گشت کے بجائے تھانوں تک محدود نظر آتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ نئے آئی جی سندھ جاوید اختر عالم اوڈھو کا تعلق بھی تحصیل گڑھی خیرو سے ہے، مگر تعیناتی کے باوجود بدامنی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔ ڈی آئی جی لاڑکانہ اور ایس ایس پی جیکب آباد سے مطالبہ کیا گیا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر اور بڑے پیمانے پر آپریشن کیا جائے۔
دوسری جانب تحصیل ٹھل کے قریب تھانہ گڑھی حسن کی حدود میں گاؤں عبدالوھاب کندرانی کے مکینوں نے بڑھتی بدامنی کے خلاف مین روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کر کے احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا۔ مظاہرین کی قیادت کامریڈ مختیار کندرانی اور خادم حسین کندرانی نے کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ چوریاں اور ڈکیتیاں روز کا معمول بن چکی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ رات مختیار کندرانی کے گھر سے بھینس چوری ہوئی، مگر حدود پولیس کو فوری اطلاع دینے کے باوجود کوئی داد رسی نہیں ہوئی۔
مظاہرین نے ڈی آئی جی لاڑکانہ اور ایس ایس پی جیکب آباد محمد کلیم ملک سے مطالبہ کیا کہ بدامنی پر فوری قابو پایا جائے اور چوری شدہ بھینس برآمد کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

Comments are closed.