وندَر میں کرش پلانٹس کی غیرقانونی سرگرمیاں عروج پر، قدرتی وسائل کی کھلی لوٹ مار

20

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ | وندر: 09 جنوری 2026
رپورٹ: رمضان لاسی
وندَر کنراج: وندر میں قائم کرش پلانٹس کی مبینہ غیرقانونی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں، جہاں قیمتی معدنیات روزانہ کی بنیاد پر بھاری رقوم کے عوض کراچی اور اندرون سندھ منتقل کی جا رہی ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق یہ سرگرمیاں معدنی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور قدرتی وسائل کی منظم لوٹ مار کے مترادف ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرش پلانٹس کے مالکان مبینہ طور پر ضلعی انتظامیہ، محکمہ معدنیات اور دیگر متعلقہ اداروں کی چشم پوشی یا ملی بھگت کے باعث بلاخوف و خطر قیمتی بجری، ریت اور دیگر تعمیراتی مواد ٹرالرز اور ڈمپرز کے ذریعے بیرون علاقوں کو منتقل کر رہے ہیں۔
اس غیرقانونی عمل سے ایک طرف ریاستی خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، تو دوسری جانب مقامی آبادی ماحولیاتی آلودگی، سڑکوں کی خستہ حالی اور پہاڑی علاقوں کے قدرتی توازن کی بربادی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پہاڑوں کی بے دریغ کٹائی نے نہ صرف ماحول پر منفی اثرات ڈالے ہیں بلکہ مقامی قدرتی حسن بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کی جائیں، غیرقانونی سرگرمیاں روکی جائیں اور ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ وندر کے قدرتی وسائل کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔

Comments are closed.