ایف آئی اے کا ’انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم‘

24

 قادر خان یوسف زئی
07-12-2025

پاکستان کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے ڈیپارچر لاؤنجز، جو کبھی امیدوں، دعاؤں اور نئے مستقبل کی نوید سنانے والی جگہیں ہوا کرتی تھیں، آج کل ایک عجیب سی بے یقینی کی کیفیت میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ اس گھمبیر صورتحال کی تہیں محض جذباتی نہیں ہیں بلکہ یہ معاملہ بین الاقوامی ، جیوسٹریٹیجک دباؤ، اور ہمارے اپنے اداروں کے اندر موجود کالی بھیڑوں تک جاتا ہے کیونکہ یہ کہانی صرف ایک مسافر کی نہیں، بلکہ اس نظام کی ہے جو ایک طرف تو انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو پھلنے پھولنے دیتا ہے۔ جس کی بنیادی جڑیں یونان کے ساحل پائلوس کے قریب ہونے والے کشتی حادثے اور دسمبر 2024 کے واقعات میں پیوست ہیں جنہوں نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور بحیرہ روم، جو صدیوں سے تجارت اور تہذیبوں کے ملاپ کا راستہ رہا ہے، اب پاکستانی نوجوانوں کا قبرستان بن چکا ہے جہاں سینکڑوں پاکستانیوں کی ہلاکت کے بعد ریاست کا ردعمل روایتی اور ہنگامی نوعیت کا تھا جس میں انسانی سمگلروں کے خلاف منظم کارروائی کے بجائے سارا دباؤ ایگزٹ پوائنٹس یعنی ہوائی اڈوں پر ڈال دیا گیا۔
عالمی دباؤ کے نتیجے میں ایک ایسی پالیسی ترتیب دی گئی جس نے ”احتیاط” کو ایک غیر اعلانیہ ”سائلنٹ بین” نافذ کر دیا گیا جس کے تحت عملی طور پر ہر وہ نوجوان جو 15 سے 40 سال کی عمر کا ہو، جس کا تعلق گجرات، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، یا گجرانوالہ سے ہو، اور جو پہلی بار سفر کر رہا ہو، وہ ایف آئی اے کی نظر میں مشکوک ٹھہرایا گیا ہے حالانکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ بیانات میں واضح کیا کہ مکمل دستاویزات رکھنے والوں کو نہیں روکا جائے گا لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ ایئرپورٹس پر ”کلاس پروفائلنگ” عروج پر ہے ۔ اس بحران کا ایک انتہائی اہم اور تاریک پہلو، جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، وہ افغان شہریوں کا پاکستانی شناخت اور پاسپورٹ کا استعمال ہے جس نے ہمارے سبز پاسپورٹ کی رہی سہی ساکھ کو بھی تباہ کر دیا ہے کیونکہ تحقیقات سے یہ ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں کہ نادرا کے سسٹم میں نقب لگا کر تقریباً ڈھائی لاکھ (250,000) جعلی شناختی کارڈز جاری کیے گئے جن کی بنیاد پر افغان شہریوں نے پاکستانی پاسپورٹ بنوائے اور جب یہ افراد بیرونِ ملک غیر قانونی سرگرمیوں یا انسانی سمگلنگ میں ملوث پائے گئے تو بدنامی پاکستان کے حصے میں آئی۔
ایف آئی اے نے اسلام آباد اور دیگر شہروں میں کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ایسے نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا جو افغانوں کو پاکستانی پاسپورٹ پر سعودی عرب اور یورپ بھجوا رہے تھے، لیکن اس جعل سازی کا خمیازہ اب عام پاکستانی مسافر کو بھگتنا پڑ رہا ہے جسے ہر امیگریشن کاؤنٹر پر مشکوک نگاہوں سے دی�

Comments are closed.