مسلم دشمنی میں جوبائیڈن ٹرمپ کے نقش قدم پر ، ٹرمپ کے غلط فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعلان

0 31

واشنگٹن: سابق امریکی نائب صدر اور رواں برس نومبر میں ڈیموکریٹک کے صدارتی امیدوار 77سالہ جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ اگر وہ امریکی صدر بن جاتے ہیں تو وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک غلط فیصلے کو برقرار رکھیں گے، اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے والے فیصلے کو اختلافات کے باوجود تسلیم کروں گا اور امریکی سفارت خانے کو دوبارہ منتقل نہیں کروں گا۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ اگر وہ انتخابات جیت جاتے ہیں تو وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے والے فیصلے کو اختلافات کے باوجود تسلیم کریں گے اور امریکی سفارت خانے کو دوبارہ منتقل نہیں کریں گے۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بننے کے ایک سال بعد ہی عالمی تنقید کے باوجود دسمبر 2017 میں یروشلم (بیت المقدس) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔امریکا کے اس متنازع فیصلے پر مسلم ممالک سمیت امریکا کے اتحادی و قریبی یورپی ممالک نے بھی تنقید کی تھی، تاہم اس باوجود امریکا نے اگلے ہی سال مئی 2018 میں اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کردیا تھا۔امریکا کی جانب سے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کیے جانے کے ایک ہفتے کے اندر ہی دوسرے ممالک نے بھی اس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے سفارت خانے تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنا شروع کردیے تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.