اسرائیل سے تعلقات کی بحالی، سعودی ڈرامہ تنازع کی زد میں
ریاض: فلسطینیوں نے سعودی عرب کی ٹی وی ڈراما سیریز پر سخت تنقید کی ہے جس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کو فروغ دیا جارہا ہے،کچھ عرب ڈرامے اس معاملے کا احترام نہیں کررہے اور وہ عجیب و غریب نظریات پھیلاتے ہیں جو قبضے کے ساتھ بقائے باہمی کا مطالبہ کرتے ہیں اور فلسطینی مقاصد پر سوال اٹھاتے ہیں،سعودی براڈکاسٹر سے نشر ہونے والے متنازع ڈرامے کی مذمت کی اور اسے تمام عربوں اور مسلمانوں کے لیے تاریخی دھچکا قراردے دیا۔بئن الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈراما سیریز ام ہارون اور ایگزٹ 7شو، دبئی میں قائم سعودی ٹی وی نیٹ ورک مڈل ایسٹ براڈ کاسٹنگ سینٹر(ایم بی سی)کے ذریعے نشر کیا جارہا ہے۔غزہ کی پٹی پر حکومت کرنے والے حماس گروپ کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ ٹی وی ڈراموں کو عوام اور ان کے نظریات کا اظہار کرنا چاہیے نہ کہ مخصوص نظریہ کا پرچار کریں۔انہوں نے ترک نیوز ایجنسی اناطولیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال تیار کیے گئے کچھ عرب ڈرامے اس معاملے کا احترام نہیں کررہے اور وہ عجیب و غریب نظریات پھیلاتے ہیں جو قبضے کے ساتھ بقائے باہمی کا مطالبہ کرتے ہیں اور فلسطینی مقاصد پر سوال اٹھاتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ اسرائیل خطرہ ہے اور وہ ہمیشہ عرب قوم کا پہلا دشمن رہے گا۔فلسطینی اسلامی جہاد تحریک کے ترجمان مصعب البریم نے بھی سعودی براڈکاسٹر سے نشر ہونے والے متنازع ڈرامے کی مذمت کی اور اسے تمام عربوں اور مسلمانوں کے لیے تاریخی دھچکا قراردے دیا۔