صدر آصف علی زرداری: پاکستان جنوبی ممالک کے درمیان تعاون اور سماجی تحفظ کے نظام میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے

17

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ

دوحہ/اسلام آباد (عسکر انٹرنیشنل رپورٹ) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان نے جنوبی ممالک کے درمیان تعاون   میں ایک مؤثر اور فعال کردار ادا کرتے ہوئے پالیسی جدت، سماجی تحفظ اور کمیونٹی بیسڈ ترقیاتی ماڈلز سے دیگر ترقی پذیر ممالک کو مستفید کیا ہے۔

قطر کے انگریزی اخبار “دی پیننسولا” کو خصوصی انٹرویو میں صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے شعبوں میں اپنی کامیاب پالیسیوں کے ذریعے جامع اور پائیدار ترقی کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) اور نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری (NSER) کو پاکستان کے جدید اور شفاف سماجی تحفظ کے نظام کی بنیاد قرار دیا۔

صدر نے بتایا کہ بائیومیٹرک تصدیق اور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے امدادی رقوم براہِ راست مستحقین تک پہنچائی جا رہی ہیں، جس سے خواتین کو مالی خود مختاری حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں ہر خاندان کو سماجی تحفظ میسر ہو، خواتین معاشی طور پر مضبوط ہوں اور نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کے مواقع دستیاب ہوں۔”

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور خلیجی ممالک افرادی قوت، مہارت کے فروغ، اور پائیدار سرمایہ کاری میں تعاون کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ موسمیاتی موافق انفراسٹرکچر اور سماجی تحفظ پر مشترکہ اقدامات سے علاقائی استحکام کو تقویت ملے گی۔

صدر زرداری نے قطر کے خطے میں امن، مکالمے اور ثالثی کے مثبت کردار کو سراہا، خصوصاً حماس اور بین الاقوامی فریقوں کے درمیان مذاکرات اور امریکہ و طالبان مذاکرات کی میزبانی میں قطر کی خدمات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

صدر نے کہا کہ پاکستان اپنی سماجی پالیسی کو دوحہ اعلامیہ کے اصولوں کے مطابق تشکیل دے رہا ہے، جس میں یونیورسل سوشل پروٹیکشن اور جامع معاشی بحالی پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت نو ملین سے زائد خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ بچوں، معذور افراد، خواتین اور آفات سے متاثرہ خاندانوں کے لیے نئے پروگرام بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کے ساتھ مل کر سماجی تحفظ کے نظام کو وسعت دینے، سبز روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پالیسی کو موسمیاتی استحکام کے ساتھ جوڑنے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کامیاب پالیسیاں جنوبی ممالک کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل ہیں، جو تعاون، انصاف اور پائیدار ترقی کی بنیاد فراہم کر رہی ہیں۔

Comments are closed.