بلوچستان میں حقِ معلومات کے قانون پر تربیتی ورکشاپ کا انعقاد
عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
کوئٹہ، 5 نومبر 2025 – ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان اور بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے اشتراک سے بلوچستان کے پبلک انفارمیشن آفیسرز (PIOs) کے لیے بلوچستان حقِ معلومات تک رسائی ایکٹ 2021 پر ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔
ورکشاپ کا مقصد مختلف محکموں کے افسران کو آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت معلومات کی فراہمی، عوامی شفافیت، اور جواب دہ طرزِ حکمرانی کے فروغ کے حوالے سے ضروری تربیت فراہم کرنا تھا۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی بورڈ آف ٹرسٹیز کی رکن پروفیسر ڈاکٹر نوشین وصی نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ شفافیت کے بغیر جمہوری نظام میں اعتماد قائم نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حقِ معلومات تک رسائی ایک فعال اور جواب دہ حکومت کی بنیاد ہے۔
عبدالشکور خان، انفارمیشن کمشنر بلوچستان انفارمیشن کمیشن، نے بلوچستان آر ٹی آئی ایکٹ 2021 کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور بتایا کہ اگرچہ صوبے میں درخواستوں کے جوابات کی
شرح اب بھی کم ہے، تاہم کمیشن مؤثر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔
کاشف علی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان، نے ایکٹ کی دفعہ 5 پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پروایکٹو ڈسکلوژر بدعنوانی کے خاتمے اور عوامی اعتماد کی بحالی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آر ٹی آئی سماجی احتساب کو مضبوط بناتا ہے اور عوام کو فیصلہ سازی میں شمولیت کا موقع فراہم کرتا ہے۔
سلیم شاہد، بیورو چیف ڈان اور سابق صدر پی ایف یو جے، نے اپنے خطاب میں کہا کہ حقِ معلومات کا قانون صوبے میں شفاف طرزِ حکمرانی اور جمہوری استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
ورکشاپ کے دوران شرکاء نے مختلف سوالات اٹھائے اور عمل درآمد کے چیلنجز پر گفتگو کی۔ انہوں نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان اور بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تربیتی سرگرمیاں افسران اور عوام، دونوں میں قانون کے حوالے سے شعور بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
یہ مشترکہ اقدام بلوچستان میں شفافیت، احتساب اور بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
Comments are closed.