توانائی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں،گزشتہ 18 ماہ میں بجلی کی قیمت میں 10.5 فیصد تک کی کمی کی گئی ، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری کی پریس کانفرنس

24

اسلام آباد۔3نومبر :وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ توانائی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں،توانائی کے شعبے کے تکنیکی مسائل کو حل کر کے اربوں روپے کی بچت کی،گزشتہ 18 ماہ میں بجلی کی قیمت میں 10.5 فیصد تک کی کمی کی گئی ہے، جہاں موقع ملا عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، اب حکومت بجلی نہیں خریدے گی، ایک سال میں گردشی قرضے میں 700 ارب روپے کی کمی لائے، آٹومیٹک میٹرنگ میں صارفین کو پری پیڈ کی سہولت میسر ہوگی ۔پیر کو یہاں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب،چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ مہنگی بجلی کی بہت ساری وجوہات تھیں،موجودہ پاور جنریشن کے اندر ساری ایڈیشن پچھلے سالوں میں ایس ڈی ڈالرز میں تھی، روپے کا ریٹ 100 روپے سے 285 تک گیا، انٹرسٹ ریٹس اوپر جانے سے کنزیومرز کے اوپر بوجھ آیا اور ہماری کپیسٹی پیمنٹس کے شیئر میں تقریباً آٹھ روپے پر یونٹ کا اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہبازشریف نے ہدایت کی کہ صارفین کے لئے قیمت بجلی کو کم کیا جائے،پچھلے 18 مہینے کے اندر بجلی کی قیمت میں تقریبا ً10.5 روپے فی یونٹ کی کمی کی،انڈسٹری کے لئے 26 روپے فی یونٹ بجلی فراہم کرنا شروع کیا اور انڈسٹری کے لئے تقریبا ً 16 روپے پر یونٹ کے اندر کمی لائے۔انہوں نے کہا کہ سی ڈی پی سی ایم اس کا آپریشنلائز کرنا پاکستان کی تاریخ کے اندر سب سے بڑا ریفارم ثابت ہوگاجسے جنوری، فروری میں آپریشنلائز کیا جا رہا ہےجو 20 سال سے ہر حکومت کوشش کر رہی تھی، موجودہ کابینہ نے وہ ریفارم کر کے دکھایا،اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ حکومت پاکستان بجلی خرید نہیں سکے گی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اوپر سات ارب روپے کا اضافی بوجھ تھا، ایکسٹرا ہم تنخواہیں دے رہے تھے، ڈیڈ پلانٹس کو آکشن آ ¶ٹ کیا، الحمدللہ17 یونٹ آکشن ہو چکے ہیں، پہلی دفعہ تاریخ کے اندر 1.2 کھرب روپے کے سیکولر ڈیٹ کو ختم کیا، ڈسٹری بیوشن کمپنیز کے نقصانات کو ایک سال کے اندر 193 ارب روپے سے کم کیا،یہ وہ ریفارمز ہیں جو بہتر گور ننس،بغیر سفارش کے بورڈ ممبرز کو انڈکٹ کر کے آئیں، تقریباً 80 ارب روپے سالانہ کا نقصان صرف کوئٹہ الیکٹرک کمپنی کا ٹیوب ویل سے آتا تھا، 27 ہزار ٹیوب ویل کے مالکان بجلی استعمال کرتے تھے لیکن بل نہیں دیا کرتے تھے، فیڈرل گورنمنٹ نے ساڑھے 38 ارب روپے انویسٹ کئے،صوبائی حکومت نے ساڑھے 16 ارب کئے اور اسی سال ہم 40 ارب روپے کی ریکوری اس میں سے کر سکیں گے، اگلے تین سال میں پاکستان کا پورا لینڈسکیپ، میٹرائزیشن کا نہ صرف فیڈرز بلکہ ہر ٹرانسفارمر اور ہر میٹر سنگل فیز ہو یا تھری فیز تمام میٹرز کی آٹومیٹک میٹنگ ہوگی جہاں پری پیڈ سروسز کی سہولیات ہمارے کنزیومرز کو میسر ہوں گی۔ اویس لغاری نے کہا کہ توانائی کے شعبے کو جدید خطور پر استوار کر رہے ہیں، جہاں مو۱قع ملا عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش ہر ممکن کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے کے تکنیکی مسائل کو حل کرکے اربوں روپے کی بچت کی، نیٹ میٹرنگ کی قیمت میں بڑی کمی پرغور کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز سے متعلق ٹاسک فورس نے نمایاں کام کیا اور اب حکومت بجلی نہیں خریدے گی، اس کے علاوہ گردشی قرضے کے خاتمے سے متعلق م ¶ثر پلان بنایا ہے، گردشی قرض میں کمی کے لئے 1200ارب روپے کا قرض معاہدہ کیا ہے، ایک سال میں گردشی قرضے میں 700 ارب روپے کی کمی لائی گئی ہے۔ اویس لغاری نے کہا کہ آٹومیٹنگ میٹرنگ میں صارفین کو پری پیڈ کی سہولت بھی میسر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پی پی ایم سی کو ایک ٹیکنیکل ارم ڈکلیئر کیا، بہترین سیلریز دیں، پی پی ایم سی کے ادارے کی وجہ سے اب تک ہم کئی سو ارب روپے کی بچت کر چکے ہی، این ٹی ڈی سی کی این جی سی الگ ایک کمپنی بن چکی ہے اور تمام منصوبوں کومقررہ وقت پر تکمیل کو یقینی بنائے گی

Comments are closed.