حکومت نے ملک میں کیش لیس اکانومی کے فروغ پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے،ڈیٹا ایکسچینج لیئر کے پائلٹ پراجیکٹ کا دسمبر میں آغاز ہوگا،سرکاری سطح پر 2026 تک تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل طریقے سے ہوں گی،شنزہ فاطمہ خواجہ

20

 اسلام آباد۔3نومبر :وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شنزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ حکومت نے ملک میں کیش لیس اکانومی کے فروغ پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے،ڈیٹا ایکسچینج لیئر کے پائلٹ پراجیکٹ کا دسمبر میں آغاز ہوگا، ڈیجیٹل اکانومی سے ٹیکس نیٹ میں بہتری اور توسیع آئے گی،ڈیجیٹل ادائیگیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، سرکاری سطح پر 2026 تک تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل طریقے سے ہوں گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور دیگر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف ڈیجیٹل پاکستان کے لئے ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ملکی معیشت کے لئے 4 سال میں 10 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیاہے۔ رواں سال جنوری میں ڈیجیٹل پاکستان ایکٹ منظور کیا گیا جس کے تحت ڈیجیٹل پاکستان کا روڈ میپ دیا گیا جس کے تین پہلو ڈیجیٹل سوسائٹی، ڈیجیٹل اکانومی اورڈیجیٹل گورننس ہیں، یہ آپس میں جڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ملک میں کیش لیس اکانومی کے لئے تین کمیٹیاں تشکیل دیں، ملک میں کیش لیس اکانومی کے فروغ کے لئے بھرپور اقدامات کررہے ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن کے عمل میں تمام اداروں کو ہم آہنگ کررہے ہیں۔راست کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی بھی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا ایکسچینج لیئر کے پائلٹ پراجیکٹ کا دسمبر میں آغاز ہوگا۔ ڈیجیٹل اکانومی سے ٹیکس نیٹ میں بہتری اور توسیع آئے گی۔ عام شہریوں کے لئے آسانی پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں 10 فیصد اضافہ سے جی ڈی پی گروتھ میں ایک فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے چار کروڑ سے زائد بجلی کے بلوں پر ادائیگی کے لئے کیو آر کوڈ ہے۔ بی آئی ایس پی کی مستحق ایک لاکھ خواتین کے اکاﺅنٹ کھلوائے گئے۔رمضان پیکیج ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے تقسیم کیا گیا۔ 80 لاکھ خواتین ڈیجیٹل بینکنگ میں شامل ہوئیں۔ پاک آئی ڈی کے ذریعے آن لائن شناختی کارڈ بنوانے میں آسانی ہے۔ اسلام آباد کی سمارٹ ایپ کے ساتھ راست کو ہم آہنگ کیا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے اسلام آباد کے شہریوں نے گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس کی مد میں ایک ارب روپے ادا کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیو آر ادائیگیوں کے سلسلے میں کیو آر مرچنٹ کو ادائیگی کے لئے ساڑھے تین ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کے لئے سب کے پاس انٹرنیٹ ضروری ہے۔ فائبرائزیشن سے متعلق مسائل کے حل کے لئے پورے پاکستان میں رائٹ آف وے چارجز ختم کردیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجٹلائزیشن سے ڈیجیٹل ادائیگیوں میں آسانی اور شفافیت پیدا ہو گی۔ سرخ فیتہ ختم کرنے میں مدد ملے گی، کارکردگی میں بہتری آئے گی، بینکوں سے قرضہ لینے میں آسانی ہوگی۔ غیر روائتی معیشت کو باضابطہ بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ جون 2025ءمیں 5لاکھ مرچنٹ آن لائن ادائیگیاں کررہے تھے، 2026ءتک ان کی تعداد 20لاکھ تک لے جانا ہدف ہے۔ڈیجیٹل بینکنگ صارفین کی تعداد جون 2025 میں 95 ملین تھی، ستمبر 2025 تک ان صارفین کی تعداد بڑھ کر 112 ملین تک پہنچ چکی ہے۔جون 2026 تک 120 ملین تک لے جانا ہدف ہے۔ صنفی امتیاز کے خاتمے کے لئے کام کررہے ہیں، آسان خدمت کا اجراءجلد کررہے ہیں۔ جس کے ذریعے 150 خدمات فراہم کی جائیں گی۔ سرکاری سطح پر 2026 تک تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل طریقے سے ہوں گی۔ بی آئی ایس پی کی ڈیجٹلائزیشن کو 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا۔

Comments are closed.